حیات بشیر

by Other Authors

Page 279 of 568

حیات بشیر — Page 279

279 رہی ہے اور اگر خدا نخواستہ وہ نہ سنبھلی تو اس کا تنزل عنقریب نمایاں ہو کر ظاہر ہو جائے گا۔جس سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیئے۔ایک اور بات ? چاہیئے۔ایک اور بات جو جماعت کو یاد رکھنی چاہیے وہ مستورات اور اولاد سے تعلق رکھتی ہے۔اگر کوئی جماعت اپنی مستورات کی تربیت کا خیال نہیں رکھتی اور اپنی آئندہ نسل کی تربیت سے بھی غافل ہے تو جان لے کہ وہ خود اپنی موت کو قریب لا رہی ہے جو اسے اگلی نسل میں یقیناً آ دبوچے گی۔پس میری نصیحت یہی ہے کہ دوست جماعتی ترقی کی اس چاردیواری کو مضبوطی کے ساتھ برقرار رکھیں یعنی اخلاص اور قربانی اور تنظیم اور اتحاد کے اعلیٰ مقام پر قائم رہیں اور پھر اپنی ترقی کو دائمی بنانے کے لئے اگلی نسل کی فکر بھی کریں۔جس کے لئے مستورات اور نوجوانوں کی تنظیم اور تربیت کی طرف خاص توجہ ضروری ہے۔بلکہ مستورات کی تربیت کا تعلق تو صرف اگلی نسلوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ موجودہ نسل کے آدھے دھڑ کے ساتھ بھی ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احباب کے ساتھ ہو اور ان کا حافظ وناصر رہے۔آمین یا ارحم الراحمین‘ ۸۲ اسی طرح آپ نے حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ عنہ ایسے قابل ذکر مجاہد کی وفات پر (جو ۲۸ فروری ۱۹۶۰ء کو ہوئی تھی) لکھا کہ جو بادہ کش تھے پرانے وہ اُٹھتے جاتے ہیں کہیں آب بقائے دوام لا ساقی کل جب مجھے چوہدری صاحب مرحوم کے جنازہ کی نماز پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی تو مجھے بعض خیالات کے غیر معمولی ہجوم کی وجہ سے نماز پڑھانی مشکل ہوگئی اور میں اپنی کوشش سے طبیعت پر زور دے کر مسنون دعائیں پڑھ سکا کیونکہ بار بار یہ خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتہ لوگ گذرتے جاتے ہیں۔مگر ان کی جگہ لینے کے لئے نئے آدمی اس رفتار سے تیار نہیں ہو رہے جیسا کہ ہونے چاہئیں اور پھر جو نئے لوگ تیار ہور ہے ہیں وہ عموماً اس للہیت اور ہ اس جذبہ خدمت کے مالک نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کے لئے طرۂ امتیاز رہا ہے۔بیشک بعض بہت قابل رشک نوجوان بھی پیدا ہو رہے ہیں مگر کثرت وقلت کا فرق اتنا عیاں و ظاہر ہے کہ کوئی سمجھدار شخص اس فرق