حیات بشیر

by Other Authors

Page 280 of 568

حیات بشیر — Page 280

280 کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔بہر حال میرے دل و دماغ پر اس خیال نے اتنا غلبہ پایا کہ بعض اوقات میں نماز جنازہ میں مسنون دعاؤں کو بھول کر اس دعا میں لگ جاتا تھا کہ خدایا تیری ممیت والی صفت جب زندوں کو مار رہی ہے تو اپنے فضل و کرم سے اپنی محتی والی صفت کے ماتحت مرنے والے کی جگہ لینے کے لئے ہم میں ساتھ ساتھ زندہ وجود بھی پیدا کرتا چلا جا۔تاکہ جماعت میں کسی قسم کا خلا یا کمزوری نہ آنے پائے اور اس کا قدم ہر آن ترقی کی طرف اُٹھتا چلا جائے۔جنازہ کے دوران میں بلکہ تجہیز و تکفین کے دوران میں بھی میرا قریباً سارا وقت اسی فکر اور اسی دعا میں گذرا۔چنانچہ جو شعر اس نوٹ کے عنوان میں درج کیا گیا ہے وہ بھی اصولی طور پر اسی لطیف مضمون کا حامل ہے کہ جو لوگ اکٹھے بیٹھ کر شراب طہور پیا کرتے اور مجلس جمایا جا کرتے تھے وہ اب ایک ایک کر کے اُٹھتے جاتے ہیں اور پرانی مجلس سونی ہوتی رہی ہے۔اب اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اس مجلس میں بیٹھنے والوں کو کوئی ایسا آب حیات مل جائے جو اُن پر موت کا دروازہ بند کر دے اور اس طرح یہ پاکیزہ مجلس ہمیشہ گرم رہے۔میں انہی خیالات میں سرگردان تھا کہ میرے دل کی گہرائیوں سے یہ آواز اٹھی کہ اسلام نے یہ آب حیات بھی مہیا کیا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتاً بل احیاء عند ربهم يرزقون * یعنی جو لوگ خدا کے راستہ میں زندگی گزارتے ہوئے فوت ہوں اور قربانی کی موت حاصل کریں۔ان کو ہرگز فوت شدہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں (اور ہمیشہ زندہ رہیں گے ) اور ان کی زندگی کی علامت یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی خدا کی طرف سے اُنکو رزق مہیا کیا جاتا ہے جو انسانی زندگی کے بقا اور نشوونما کا موجب ہے۔“ اس لطیف آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ شہداء کی زندگی نہ صرف اپنی ذات میں کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ شہید کی موت بہت سے دوسرے لوگوں کی زندگی کا باعث بن جاتی اور جماعت کی غیر معمولی ترقی کا موجب ہو جاتی ہے اور جاننا چاہیے کہ جیسا کہ قرآن و حدیث میں صریح اشارات پائے جاتے ہیں کہ شہید سے صرف