حیات بشیر

by Other Authors

Page 278 of 568

حیات بشیر — Page 278

278 ماتحت خدمت دین کی توفیق دے۔یہ دنیا تو بہر حال عارضی ہے انسان کی حقیقی خوشی اسی میں ہے کہ خدا اس سے راضی رہے اور اس کا انجام بخیر ہو کیونکہ بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر والسلام (دستخط) مرزا بشیر احمد“ بزرگان سلسلہ اور کارکنان خاص کی وفات صفات حسنہ کا ذکر اور جماعت کو انکی جگہ لینے کی انکی تلقین ایک خاص وصف آپ میں یہ تھا کہ بزرگان سلسلہ اور کارکنان خاص کی وفات پر الفضل“ کے ذریعہ اُن کی صفات حسنہ کا ذکر کرتے اور احباب کو تلقین فرماتے کہ ان کی جگہ لینے کیلئے ویسی ہی صفات اپنے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرو تا سلسلہ کا روحانی معیار گر نہ جائے۔محترم چوہدری عبد اللہ خاں صاحب مرحوم و مغفور سابق امیر جماعت احمدیہ کراچی کا وجود جماعت کے لئے کئی لحاظ سے ایک نفع رساں وجود تھا۔ان کی وفات پر جو ۱۹۵۹ء میں ہوئی تھی ان وہ کے اعزا وا قارب کو جو صدمہ پہنچنا تھا وہ تو ایک طبعی امر تھا۔جماعت کے لئے مجموعی طور پر بھی اپنی متعدد خوبیوں کی وجہ سے نہایت محبوب ہستی تھے۔ان کی وفات پر حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے جماعت کے نام جو پیغام دیا وہ یہ تھا: " ایک یہ زندگی عارضی ہے اور انسان نے جلد یا بدیر بہر حال مرنا ہے۔مگر ترقی کرنے والی جماعتوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب اُن میں سے کوئی فرد وفات پاتا ہے تو وہ اس کی وفات کی وجہ سے جماعت میں کسی قسم کا خلاء نہیں پیدا ہونے دیتے بلکہ اگر شخص مرتا ہے تو اس کی جگہ لینے کے لئے (نام کی جگہ نہیں بلکہ حقیقی قائمقامی کے لئے ) دس کام کے آدمی پیدا ہو جاتے ہیں۔پس جماعت کا اس موقعہ پر اولین فرض ہے کہ وہ اس ترقی کے مقام میں ہر گز کمی نہ آنے دیں جس پر وہ اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے پہنچ چکی ہے۔اسے یاد رکھنا چاہیے کہ دینی جماعتوں کی ترقی کی بنیاد ایمان اور عمل صالح کے بعد اصولاً چار باتوں پر ہوتی ہے یعنی اول اخلاص، دوسرے قربانی، تیسرے تنظیم اور چوتھے اتحاد۔جماعتوں کی زندگی میں سکون بالکل نہیں ہوا کرتا۔بلکہ یا تو وہ ترقی کرتی ہیں یا گر جاتی ہیں۔جو جماعت ان چار باتوں میں ترقی نہیں کرتی وہ سمجھ لے کہ وہ خواہ محسوس کرے یا نہ کرے وہ یقیناً گر