حیات بشیر — Page 277
277 خانصاحب کی وفات پر جو اظہار ہمدردی فرمایا ہے اس کا شکریہ قبول فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو حسنات دارین سے نوازے مومن کا مقام صبر کا ہے کیونکہ بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پراے دل تو جاں فدا کر ہماری ہمشیرہ کے لئے اور بھانجوں بھانجیوں کے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو اور نیکی کے رستہ پر قائم رکھے۔والسلام (دستخط) مرزا بشیر احمد “ حضرت میاں عبد اللہ خانصاحب کی وفات پر فضل عمر ہوٹل ربوہ کے سٹاف اور طلباً کی طرف سے تعزیت کا خط آنے پر آپ نے انہیں تحریر فرمایا کہ ” خدا کرے۔آپ لوگ مرحوم جیسی نیکیاں اپنے اندر پیدا کریں۔وہ ایک رئیس خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود بہت نیک، متقی اور پابند نماز اور تہجد گزار اور دعاؤں میں شغف رکھنے والے تھے اور سلسلہ کے ساتھ انتہائی اخلاص رکھتے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی وفات پر جو ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۱ء کو ہوئی آپ نے تعزیتی خطوط کے جواب میں مندرجہ ذیل چٹھی بھجوائی۔مکرمی محترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صدمہ ہے عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی وفات پر آپ کی طرف سے ہمدردی کا خط موصول ہوا۔میاں شریف احمد صاحب کی وفات ایک بڑا جماعتی اور قومی اور میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے اس صدمہ میں ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ایسے موقعہ پر عزیزوں اور دوستوں کی ہمدردی اور دُعا بڑے سہارے کا موجب ہوتی ہے۔عزیز مرحوم ایک لمبے عرصہ سے بیمار چلے آتے تھے اور گذشتہ سال انہیں دل کی بیماری کا حملہ بھی ہوا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے اہتمام کے مطابق اُن کو عمر دیتا رہا مگر آخر مقدر وقت آگیا اور ہم سے جدا ہو گئے۔”ہمارے دل کو حزیں بنا کر آپ ہم سب کے لئے عموماً اور میاں شریف احمد صاحب کی بیوی اور بچوں کے لئے خصوصاً دُعا فرماتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ صبر کے مقام پر قائم رکھے اور دین اور دنیا میں اُن کا حافظ و ناصر ہو اور رضا کے