حیات بشیر

by Other Authors

Page 268 of 568

حیات بشیر — Page 268

268 کہتے ہوں گے اور آپ نے ضرور کھایا ہوگا کیونکہ یہ آپ کی پیدائش سے چالیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔لطیف پُر وقار مزاح اور نصیحت کی دلنشیں آمیزش جس رنگ میں آپ کر سکتے تھے شاذ و نادر ہی کوئی کر سکتا ہوگا۔اس کی بیبیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ شاید ہی آپ کی زندگی کا کوئی ایسا دن ڈوبا ہوگا جس میں آپ کی زبان سے کوئی ادبی شہ پارہ نہ نکلا ہو۔مگر افسوس کہ نہ تو یہ سب باتیں محفوظ ہوسکی ہیں نہ ہی یہ موقعہ ہے کہ اس ذکر کو اور لمبا کیا جا سکے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ آپ نصیحت صرف مزاح کی ملونی کے ساتھ ہی کیا کرتے تھے۔بلکہ آپ ایک قادر الکلام فصیح و بلیغ عالم تھے اور ہمیشہ اقتضائے حال کے مطابق کلام فرماتے تھے۔جب سنجیدگی کی ضرورت محسوس کرتے تو سنجیدگی سے کام لیتے تھے اور جب جلال کا موقعہ ہوتا تھا تو جلال کا اظہار فرماتے۔“ ۷۲ تحفہ قبول فرماتے آپ کی یہ عادت تھی کہ آپ آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق دوسروں کو تحفہ دیتے بھی تھے اور اگر کوئی شخص آپ کی خدمت میں تحفہ پیش کرتا تو اسے قبول بھی فرما لیا کرتے تھے اور بسا اوقات اس کا ایسے انداز میں ذکر فرماتے تھے کہ تحفہ پیش کرنے والے کو یہ شبہ ہو جاتا کہ شاید اس نے کوئی گراں قدر چیز پیش کی ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قادیان میں ہمارا گھر آپ کی ہمسائیگی میں تھا بلکہ دروازہ سے دروازہ ملا ہوا تھا اور جہاشک مجھے یاد ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ کو کوئی تحفہ آیا ہو یا گھر میں کوئی پسندیدہ چیز بنی ہو اور آپ نے اس میں سے کچھ ہمارے ہاں نہ بھجوایا ہو۔ہمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اکرم ﷺ کا یہی طریق تھا۔کبھی ہمارے ہاں سے کوئی تحفہ جاتا تو برتن کبھی خالی واپس نہ بھیجے۔گھر میں جو کچھ بھی تحفہ کے لائق پاتے کچھ نہ کچھ بھجوا دیتے بغیر تکلف کے، بغیر اس حجاب کے کہ وہ تحفہ آئے ہوئے تحفہ سے بظاہر کم تر ہے۔مجھ سے ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی طریق تھا۔“ سے