حیات بشیر — Page 267
267 آئے اور کمرہ میں داخل ہو کر آدمی گنے۔ایک دو تین چار پانچ چھ سات اور خاموشی سے سات الا ئچیاں جیب سے نکال کر میز پر رکھ کر چلے گئے۔آپ کے جانے کے بعد سب کمرے والے اس لطیف مزاح پر بے اختیار ہنس دیے۔مگر اس ہنسی میں جو خفت تھی وہ شاید آج تک اُن کو نہ بھولی ہو۔“ آپ کے مزاح اور نصیحت کے امتزاج کے سلسلہ میں ایک بہت پرانی بات یاد آگئی۔ابا جان اور امی جب کبھی سفر پر جاتے تھے تو مجھے اور بھائی خلیل کو عمو صاحب کے ہاں چھوڑ جایا کرتے تھے۔چنانچہ ہمیں بعض اوقات کئی کئی مہینے آپ کے ہاں ٹھہرنے اور آپ کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقعہ ملتا تھا۔ایک مرتبہ رمضان کا مہینہ تھا۔چچی جان بسبب بیماری روزہ رکھنے سے معذور تھیں۔مگر سحری کے وقت تہجد کی غرض سے اور کچھ کھانے پر خیال رکھنے کی خاطر باقاعدہ ساتھ اٹھا کرتی تھیں۔ایک دفعہ ہم سحری کھا رہے تھے کہ کسی خادمہ کی غلطی پر چچی جان نے ذرا اونچی آواز میں اسے سخت سست کہا۔عمو صاحب اُن سے تو کچھ نہ بولے مگر مجھے مخاطب کر کے فرمانے لگے۔تم جانتے ہو کہ تمہاری بچی جان بیمار ہیں۔بیچاری روزے تو نہیں رکھ سکتیں البتہ ذکر الہی کے لئے اس وقت ضرور اٹھتی ہیں۔وہ دن اور رمضان کا آخری روزہ۔پھر چچی جان نے کبھی سحری کے وقت آواز بلند نہیں کی۔مزاح کا یہ لطیف رنگ خود بخود بغیر کسی کوشش کے ایسا با موقعہ اُبھرتا تھا کہ فضا کو رنگین بنا دیتا تھا اور بعض اوقات تو اس میں ایسا بیساختہ پن پایا جاتا تھا کہ ظہور کے وقت تک مزاح چپ چاپ سنجیدگی کے پردوں میں چھپا رہتا تھا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی۔ابھی دو تین دن کی بات ہے کہ ابا جان عمو صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمانے لگے۔ایک دفعہ یہ ذکر ہو رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اونٹ کا گوشت بھی کھایا تو میاں شریف (چھوٹے چچا جان) جو اس وقت چھوٹے سے تھے بولے کہ ہاں مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے میں بھی اس وقت پاس ہی تھا اس پر میاں بشیر (یعنی عمو صاحب) نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ ہاں آپ ٹھیک