حیات بشیر

by Other Authors

Page 266 of 568

حیات بشیر — Page 266

266 کے متعلق خاتم المناظرین کے الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔آپ نے فوراً اس کے خلاف الفضل میں ایک مضمون لکھا اور فرمایا کہ اول تو کسی فرد جماعت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ سلسلہ کے مناظرین پر قاضی اور حاکم بن کر کسی شخص کے متعلق یہ اعلان کرتا پھرے کہ وہ سلسلہ کا بہترین مناظر ہے۔کیونکہ اول تو یہ بہت ذمہ داری کا کام ہے۔دوسرے اس سے کئی قسم کے فتنوں کے پیدا ہونے کا بھی احتمال ہے۔اس کے علاوہ آپ نے جماعت کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ خاتم سے مراد وہ برگزیدہ انسان ہوتا ہے جو کسی فن میں ایسا کمال پیدا کرے کہ نہ صرف وہ تمام م گذشته لوگوں پر سبقت لے جائے بلکہ آنے والے سب کے سب لوگ بھی اس کے خوشہ چین بن جائیں اور کوئی شخص اس کی شاگردی کئے بغیر اس میدان میں کمال پیدا نہ کر سکے۔پس وہ تاجر صاحب جنہوں نے یہ اصطلاح استعمال کی ہے غور کریں کہ کیا وہ اس دوست کو ایسا ہی با کمال سمجھتے ہیں اور اگر نہیں تو انہوں نے اس اصطلاح کے استعمال میں بہت بڑی غلطی کی ہے۔کے حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کو صحت لفظی کا بھی بڑا خیال رہتا تھا۔محترم مختار احمد صاحب ہاشمی فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ میری موجودگی میں ایک صاحب نے ایک معاہدہ کی عبارت پڑھ کر سنائی۔اس میں لفظ مسمی کو مسمی پڑھا۔آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مسمی مالٹا کی ایک قسم ہے اور یہ صاحب مستمی نہیں ہیں بلکہ ایک اچھے بھلے آدمی ہیں۔مسٹمی پڑھیں۔اسی طرح دفتر کے کارکنان کو بھی اگر کوئی لفظ غلط پڑھتے تو فوا ٹوک دیتے اور صحت لفظی کروا دیتے۔اکھ لطیف مزاح اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاکیزہ اور لطیف مزاح سے بھی وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔حضرت مرزا طاہر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”قادیان کی بات ہے۔غالباً جلسہ کے دن تھے۔کئی نوجوان باہر آپ کے مردانہ صحن میں مجلس کر رہے تھے اور چونکہ ان میں سے بعض سگریٹ بھی پیتے تھے۔اس لئے اس ڈر سے کہ حضرت میاں صاحب اوپر سے نہ آجائیں۔اندر سے کنڈے لگا کر سگریٹ نوشی کرنے لگے۔کچھ دیر کے بعد ہی آپ تشریف لے آئے۔دروازہ کھلوایا۔السلام علیکم کہا اور باہر تشریف لے گئے مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد پھر واپس