حیات بشیر

by Other Authors

Page 245 of 568

حیات بشیر — Page 245

245 بجے آنکھ لگی اور فجر کی اذان سنتے ہی کھل گئی۔اٹھا اور خلاق دو جہاں کے حضور سجدہ تشکر ادا کر کے فوراً ”دارالہجرۃ" کی طرف روانہ ہو گیا۔ربوہ میں داخل ہوتے ہی صدر انجمن احمدیہ کے آڈیٹر چوہدری ظہور احمد صاحب مل گئے میں نے ان سے اپنی حضرت میاں صاحب سے ملاقات کی خواہش کا ذکر کیا اور یہ بھی کہ اگر ملاقات جلد ہو جائے تو وقت پر لوٹ کر دفتر میں کچھ کام بھی کر سکوں۔دھوپ چڑھ آئی تھی۔حضرت میاں صاحب کی طبیعت بھی اچھی نہ تھی۔چوہدری صاحب از راه مسافر نوازی میرے ساتھ ہو تو لئے لیکن متذبذب اور متامل انداز میں۔البشری کے بیرونی دروازہ ہی سے حضرت میاں صاحب کے خادم خاص بشیر احمد نے مجھے دیکھ کر اندر اطلاع کر دی۔فوراً دونوں نیاز مندوں کو اندر طلب کر لیا گیا۔اس طرح کہ جب میں اندر کے کمرے کی دہلیز پر پہنچا تو ایک بھر پور بابرکت آغوش میری عمر بھر کی خطاؤں کو کار ہائے نمایاں میں تبدیل کر دینے کیلئے مضطرب و بیقرار تھی۔بابرکت معانقہ کے بعد خادم نے اپنے مقام یعنی فرش ہی پر بیٹھنا چاہا۔لیکن آج تو جیسے اس بیچمیدان پر انتہائے التفات کا فیصلہ ہو چکا تھا۔وہی سراپا محبوبیت آغوش پھر کھلی اور مجھے باصرار اپنے ساتھ پلنگ پر بٹھایا۔ہزار محبت سے میری گذارشات سنیں اور ان کے وقفوں میں بار بار ”لاہور کو بابرکت دعاؤں سے نوازا۔اور پھر نہ جانے کیا موج آئی بابرکت نگاہوں میں ایکا ایکی مسرت کا ایک نور سا چھلکا۔فرمایا: ہمارے ثاقب صاحب (اُف تو بہ۔اب کان ان دو محبت بھرے لفظوں کے سننے کے لئے عمر بھر ترستے رہیں گے) کچھ کمزور ہو گئے۔انکے چہرے پر تھکن نمایاں ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ عرض کیا۔”سیدی ! دراصل رات لائل پور میں مشاعرہ تھا۔یہ تھکن رات بھر کی بیداری کا نتیجہ ہے۔ورنہ میں خدا کے فضل اور آپ کی دعاؤں کے طفیل بھلا چنگا ہوں۔لیکن ایک دو باتوں کے بعد اسی پیار اور لٹک سے پھر فرمایا: خدا معلوم۔آج ہمارے ثاقب صاحب اتنے تھکے تھکے سے کیوں 66 ہیں۔اچھا ہم انہیں اپنے ہاتھ سے جوس پلاتے ہیں۔(ہائے وہ رسیلی،