حیات بشیر — Page 244
244 ٹیمیں پیدا کرنے والی ہے۔اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے۔“ کبھی ان الفاظ میں اپنے اس بے نوا کی حوصلہ افزائی فرماتے: دو آپ کے گزشتہ اداریے نے تو سچ مچ درد مند دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا کر دی ہے۔اللہ ارباب حل وعقد کو توفیق دے کہ وہ اس ظلم کی جلد تر تلافی کر سکیں۔۔۔۔اور کبھی اس بالواسطہ انداز میں حکومت کو اپنی لغزش کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے عیسائی حکومت کے مقابلہ پر مسلمان حکومت کی ناانصافی بڑے ہی دُکھ کی " 6 بات ہے۔کاش وہ سمجھے۔بس صبح و شام ذکر تھا تو اس کتاب کا۔سوتے ، جاگتے ، اُٹھتے بیٹھتے اعصاب پر پر فکر سوار تھا تو اس سے ہر اشاعت کی پابندی اُٹھ جانے کا بارے درو وکرب کے دن کئے۔تکدر کے بادل چھٹے۔حکام بالا کو اپنی لغزش اور ایک امن پسند جماعت کے دلی کرب کا احساس ہوا اور لاہور میں مدیران جرائد کے ساتھ چیف سیکرٹری کی ایک خصوصی کانفرنس کے بعد جس میں اس کتاب پر پابندی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔میں نے لاہور ہی میں صاحبزادہ میرزا ناصر احمد صاحب کو (جو اس وقت کسی ضروری کام سے کراچی تشریف لے جا رہے تھے ) یہ مژدہ سنایا کہ انشاء اللہ العزیز یہ پابندی چند دنوں کے اندر اندر اُٹھ جائے گی۔آپ نے فرمایا: اللہ ایسا ہی کرے۔بہتر ہو کہ آپ وقت نکال کر عمو جان (حضرت مرزا بشیر احمد کو بھی تمام تفاصیل سنا آئیں۔اُن کے لئے تو اس فکر نے ایک علیحدہ مرض کی صورت اختیار کر لی ہے۔خط لکھنے کی بجائے آپ کا خود جانا ان کے لئے زیادہ سکون کا باعث ہوگا۔“ حضرت مولانا ! (حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ایڈیٹر رسالہ الفرقان ) یہی وہ ملاقات ہے وہ نقش لازوال جس کی نورانی اور بابرکت یادوں کی حلاوت عمر بھر میرے محسوسات میں گھلی رہے گی۔لیجئے اس بادشاہ کی گدا نوازی کی یہ واردات بھی سن لیجئے۔اسی رات لائک پور میں مشاعرہ تھا جو رات کے ڈیڑھ بجے تک جاری رہا۔کوئی تین