حیات بشیر

by Other Authors

Page 246 of 568

حیات بشیر — Page 246

246 پیاری اور پُر اعتماد آواز اب بھی میری سماعت میں وہی رس گھول رہی ہے) اتنا کہتے ہی اپنی علالت کو بالائے طاق رکھ کر اُٹھے اور چھوٹے چھوٹے قدم بھرتے ہوئے الماری تک گئے چابیوں کے گچھے میں سے خاص چابی نکالی۔دروازہ کھولا۔خادم کو آواز دے کر اندر سے بلایا اور جوس تیار کرنے کی اشیاء نکال کر حوالے کیں۔وہی کھلا کھلا سا کرتہ ، ڈھلکی پھلکی شلوار، کھلا کھلا بھرا بھرا سا جسم اس سارے عرصہ میں محبت سے معمور نگاہیں کنکھیوں سے ہم پر ضیا پوشی کر کے ہمارا اعزاز بڑھاتی رہیں۔یہاں تک کہ وہ مبارک لمحہ آ گیا اور ایک گداز اور مبارک ہاتھ میری طرف بڑھا اور میں نے ان بابرکت نگاہوں کی شہ پا کر وہ آب حیات بھرا گلاس حلق سے اتار کر اپنے رگ وریشہ میں دوڑا لیا۔وقت تھا کہ صبا رفتاری سے گذر رہا تھا۔بالآخر ہماری ہی گزارش پر اجازت رخصت مرحمت ہوئی۔وہی پُر نور آغوش ایک بار پھر کھلی اور اس نے ایک دفعہ پھر اپنے عاصی کو اپنی برکتوں ޏ ڈھانپ لیا۔۔۔۔اور یہ اسی بابرکت ملاقات کے خمار ہی کا نتیجہ تھا شاید کہ میں اور چوہدری صاحب البشری سے نکل کر لجنہ اماء اللہ کے ہال تک پہنچ جانے کے باوجود ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کر سکے۔بس ایک پر کیف و روح آفریں سی کیفیت دونوں کے دلوں پر طاری رہی۔جس نے زبانوں پر مہر سکوت لگائے رکھی مبادا اس حلاوت کا ذائقہ کسیلا ہو جائے۔یقیناً میں اس حسین یاد کو دل میں بساؤں گا اک لازوال نقش محبت بناؤں گا۔مگر اے ذروں کو بیک جنبش نگاه آفتاب بنا دینے والے دلدار ومحبوب ! اب تو ہی بتا۔کہ تیری محبتوں، رعنائیوں اور نوازشوں کے رسیا غلام کہاں جائیں۔کس دروازے پر دستک دیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فریش بستر علالت ہیں اور تو نگاہوں سے اوجھل۔خواب و خیال سے دُور ۴۸ دیکھئے۔خدام نوزی کی مثال تھوڑی سی خدمت ثاقب صاحب کو کہاں سے کہاں لے گئی ؟ خدام نوازی کی ایک اور مثال سُن لیجئے۔مکرم شاہد احمد صاحب بی۔اے ابن محترم چودھری علی محمد صاحب بی۔اے۔بی ٹی کا بیان ہے کہ۔اسی سال گرمیوں کا ذکر ہے۔میرے والد محترم شدید طور پر بیمار ہو گئے حتی کہ