حیات بشیر

by Other Authors

Page 243 of 568

حیات بشیر — Page 243

243 الاول کی سوانح حیات "مرقاۃ الیقین کی دوبارہ اشاعت کی بھی تحریک کر دی اور فروٹ کی ٹوکری کا بھی شکریہ ادا کر دیا۔اپنی اور حضرت ام مظفر احمد کی صحت کی بھی اطلاع فرما دی۔گویا ایک مختصر سی چٹھی میں سب ضروری باتوں کا ذکر فرما دیا۔غرض سلسلہ کی خاطر معمولی سے معمولی قربانی کو بھی آپ بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔احباب جماعت جانتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل حکومت مغربی پاکستان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب کسی غلط فہمی کی بناء پر ضبط کر لی تھی۔اس کے نتیجہ میں یوں تو ساری جماعت ہی کا امن و چین اُڑ گیا تھا۔لیکن حضرت میاں صاحب کا اضطراب تو دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔اس کا تھوڑا سا نقشہ محترم ثاقب صاحب زیروی مدیر هفت روزہ ”لاہور کے الفاظ میں سنیے آپ فرماتے ہیں : یوں تو حضرت میاں صاحب کا ہر لمحہ ہی مجاہدہ دین میں گزرتا تھا۔لیکن اصلاح خلق کے لیے بھیجے گئے امام (علیہ السلام) کے اس مجاہد بیٹے کی آخری بابرکت مہم کا نقش تو ایک عمر تک قلب و ذہن پر مرقم رہے گا۔وہ مہم جس میں ملت احمدیہ نے آپ کی اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد (مدظلہ) کی بابرکت قیادت میں امام ہمام(علیہ السلام) کی تصنیف لطیف سراج الدین عیسائی کے چارسوالوں کا جواب“ کی اشاعت پر حکومت مغربی پاکستان کی طرف سے عائد کر دی جانے والی پابندی کے خلاف پُرخلوص و مضطربانہ کوششیں کیں۔وہ دن جب ہر سچے احمدی کا دل شب و روز روتا، رستا اور بہتا رہتا تھا حضرت میاں صاحب نور اللہ مرقدہ) کی ان ایام میں بے قراری تو دیکھنے کی تھی۔ادھر ہدایت دی جارہی ہے۔اُدھر نصیحت فرمائی جارہی ہے اور درمیانی وقفے میں الفضل کے لئے نوٹ لکھا جا رہا ہے۔۔۔یہ اس بلند و لازوال کا بے پایاں احسان ہے کہ ”لاہور کو بھی حق و صداقت کی اس جدوجہد میں آواز بلند کرنے کی تھوڑی سی توفیق ملی۔مگر میں نے محسوس کیا کہ حضرت میاں صاب نے اپنے اس ناچیز کی اس حقیر خدمت کو ازراہ ثاقب نوازی ہمیشہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا ” لاہور کے ان ایام کے شماروں کا لفظ لفظ بغور مطالہ فرماتے۔کبھی تحریر فرماتے: عزیز مکرم۔سرورق کی نظم پڑھی۔ماشاء اللہ بہت خوب ہے۔دل میں درد کی اک وو