حیات بشیر

by Other Authors

Page 223 of 568

حیات بشیر — Page 223

223 لینا۔مجھے فرمایا کرتے تھے کہ بچوں کی تربیت کے معاملہ میں میرا وہی طریق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔میں انہیں نصیحت کرتا رہتا ہوں لیکن دراصل سہارا خدا کی ذات ہے جس کے آگے جھک کر میں دعا گو رہتا ہوں کہ وہ تم لوگوں کو اپنی رضا کے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور دین کا خادم بنا دے۔ہمیں جب بھی نصیحت فرماتے تو اس میں اس بات کو ملحوظ رکھتے کہ سبکی کا پہلونہ ہو۔فرمایا کرتے تھے کہ اگر نصیحت ایسے رنگ میں کی جائے کہ دوسرے کی خفت ہو تو وہ ٹھیک اثر پیدا نہیں کرتی۔بلکہ بعض دفعہ اُلٹا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب بھی میری کوئی حرکت پسند نہ آتی۔تو اس کے متعلق تفصیل سے خط لکھتے تھے۔اور بڑے مؤثر اور مدلل طور پر نصیحت فرماتے تھے۔کسی خادمہ یا چھوٹے بچے کے ہاتھ خط اس ہدایت سے بھیجتے کہ پڑھ کر اسے واپس کر دو۔اس طریق میں ایک پہلو تو یہی ہوتا تھا کہ دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ یا نصیحت کا اچھا اثر نہ پڑے گا اور دوسرے بعض مواقع پر شاید حجاب بھی مانع ہوتا ہو۔ہم بہن بھائیوں کو دین کے کسی معاملہ میں دلچسپی لیتے اور کام سے بہت خوش ہوتے تھے۔اور اپنی خوشی کا اظہار فرماتے تھے اور یہی خواہش رکھتے تھے کہ دنیوی زندگی کا حصہ ایک ثانوی حیثیت سے زیادہ اہمیت حاصل نہ کرے۔۳۵ بچوں سے پیار بچوں سے پیار کے بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کا بیان غالبا حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔صل الله بچوں سے محبت اور پیار کرتے تھے اور یہ ارشاد تب بھی ہوتا تھا کہ آنحضرت بچوں سے پیار فرمایا کرتے تھے۔آپ اس پیار میں اتنا بڑھے ہوئے تھے کہ ہمیشہ اپنی الگ الماری میں بچوں کے لئے گولیاں ٹافیاں،غبارے ،مرمرہ، پھلیاں، ام پاپڑ ، اور سردیوں کے موسم میں چلغوزے اور دیگر خشک میوہ جات وغیرہ مقفل رکھتے تھے۔الماری کیا تھی گویا ایک چھوٹے بچوں کی دلچسپی کی دوکان تھی البتہ اس دوکان سے پیسوں کے نہیں بلکہ ہمیشہ محبت اور شفقت اور معصوم خوشیوں کے سودے ہوا کرتے تھے۔بچے بڑی کثرت سے عمو صاحب کو سلام کرنے جاتے اور واپسی " "