حیات بشیر — Page 224
224 صرف سلامتی کی دعا ہی نہیں بلکہ اپنی اشتہا کی دوا بھی لے کر لوٹتے تھے۔خاندان کے بچے بھی کچھ کم نہ تھے۔غیر از خاندان بچوں کو بھی جب آپ کی اس شفقت کا علم ہوتا تو پُر امید نگاہوں سے جو کبھی مایوس نہیں لوٹیں۔سلام کی سعادت حاصل کرنے کو حاضر ہونے لگتے۔کبھی آپ تھکے نہیں نہ ماندہ ہوئے۔ہمیشہ مسکراتے ہوئے اور بعض اوقات اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں ان بچوں کی غیر معمولی عقیدت پر ایک آدھ فقرہ چست کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے الماری کھولتے اور کبھی خود ہی اس بچہ کے لئے کوئی تحفہ پسند فرماتے۔کبھی پوچھتے کہ بتاؤ اس اس چیز میں سے کیا لو گے۔عموماً بچے اس سوال سے سخت گھبراتے تھے اور ”عمو صاحب“ ان کی اس الجھن کو بھانپتے ہوئے دونوں چیزوں میں سے کچھ نہ کچھ دے دیا کرتے تھے۔میں تو کچھ اس بناء پر کہ گھر قریب تھا اور کچھ آپ کی خاص شفقت کے زعم میں اور کچھ اس لئے بھی کہ مجھے اور بچوں سے کچھ زیادہ ہی بھوک لگا کرتی تھی اکثر دن میں کئی کئی مرتبہ جاتا اور کبھی آپ کو اپنے سلاموں سے تنگ آتے نہیں دیکھا اور یہ بھی ایک بلا مبالغہ حقیقت ہے کہ صرف یہی ایک وجہ میرے آنے جانے کی نہیں تھی۔آپ کی مسلسل بے لوث محبت کی بنا پر مجھے آپ سے ایسا پیار ہو چکا تھا کہ بار بار آپ کے پاس آنے جانے کو جی چاہتا تھا۔جہاں تک آپ کی عنایات کا تعلق ہے یہ تو ایک ایسا کنواں تھا کہ اگر پیاسے نہ آئیں تو خود پیاسوں کے پاس پہنچ جانے کا عادی تھا۔ایک دفعہ ہم سب چھوٹے بھائیوں کو حضور ایدہ اللہ نے مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب انور کی نگرانی میں ڈلہوزی بھجوایا۔ان دنوں میں آم کا موسم ختم ہونے کو تھا اور آخری موسم کے آم فجری“ رہتے تھے۔آپ نے میرے لئے باریک خوبصورت رنگین کاغذوں میں لیٹے ہوئے فجری آموں کی ایک پیٹی بند کروائی (آپ جب کبھی کسی کو کوئی تحفہ دیتے تھے نہایت سلیقے سے سجا کر دیا کرتے تھے) پھر تاکید فرمائی کہ ان کو کھانے سے پہلے یہ احتیاط کر لینا کہ نہ تو یہ ذرہ بھر کچے ہوں نہ ایک اعشاریہ زیادہ پکے ہوں کیونکہ فجری آموں کی یہ کمزوری ہے کہ ذرہ بھی زیادہ پک جائیں یا ذرہ کچے رہ جائیں تو مزہ بالکل بگڑ جاتا ہے۔البتہ پورے پکے ہوئے آم بہت عمدہ اور لطیف ہوتے ہیں۔آپ فرماتے تھے کہ فجری