حیات بشیر

by Other Authors

Page 222 of 568

حیات بشیر — Page 222

222 مند کی علالت اور والدہ کی بیماری کے گہرے اثر کا تھا۔حضور کی بیماری سے بالخصوص بہت فکر۔رہتے اور اس کے جماعتی لحاظ سے بد اثرات سے چوکس رہتے۔خود بھی بہت دعائیں کرتے تھے۔اور اخبارات اور اپنی مجلس میں دوستوں کو بھی تحریک فرماتے رہتے تھے۔اپنی آخری بیماری میں بھی جب ایک روز خبر آئی کہ حضور کی ران پر زخم کے آثار ہیں تو اس پر بہت پریشان تھے۔اور آبدیدہ ہو کر مجھے فرمایا کہ۔”یہ بڑے فکر کی بات ہے۔“ ۳۳ محترمہ صاحبزادی امته السلام صاحبه بیگم محترم مرزا رشید احمد صاحب فرماتی ہیں کہ : ”اماں (یعنی والدہ صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی بیماری میں جس محبت سے انہوں نے خدمت کی۔دنیا میں شاید ہی کوئی کر سکتا ہو۔چنانچہ آمنہ اہلیہ نیک محمد صاحب پٹھان کا بیان ہے کیونکہ وہ اماں کی بیماری میں ساتھ رہی تھیں) کہ ڈاکٹر امیر الدین صاحب جنہوں نے اماں کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹنے پر آپریشن کیا تھا۔کہتے تھے کہ میری نظروں سے ہزاروں مریض گذرے ہیں۔امیر بھی اور غریب بھی مگر میں نے اتنا خیال رکھنے والا خاوند کم ہی دیکھا جو ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھے۔۳۴۴ بچوں سے سلوک بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارہ میں بھی آپ حضرت مسیح موعود کے طریق کار کی اتباع کرتے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب سلمہ رقم طراز ہیں کہ: ہم بہن بھائیوں سے بھی بہت شفقت کا سلوک فرماتے تھے۔اولاد کا احترام کرتے تھے اور جب کبھی ہم باہر سے جلسہ وغیرہ اور دوسرے مواقع پر گھر جاتے تھے تو ہر ایک کے لئے بہت اہتمام فرماتے تھے۔خود تسلی کرتے تھے کہ سونے والے کمرہ میں بستر وغیرہ ہر چیز موجود ہے۔غسلخانے میں پانی صابن تولیہ موجود ہے۔یوں احساس ہوتا تھا جیسے کسی برات کا اہتمام ہو رہا ہے۔اور ہمیں شرم آتی تھی لیکن خود ذوقایہ اہتمام فرماتے تھے۔ہم واپس جاتے تو کمرہ میں آکر دیکھتے کہ کوئی چیز بھول کر چھوڑ تو نہیں گئے۔اگر کچھ ہوتا تو اسے حفاظت سے رکھوا لیتے اور ہمیں اطلاع ضرور دیتے کہ فلاں چیز تم یہاں چھوڑ گئے ہو۔میں نے رکھوا لی ہے۔پھر آؤ تو یاد سے لے