حیات بشیر — Page 217
217 اس حصہ مضمون کو ختم کرتا ہوں۔دسمبر ۱۹۵۹ء کے پہلے ہفتہ کی بات ہے خاکسار رات آٹھ بجے بذریعہ بس ربوہ پہنچا ساتھ ہی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی پہلی رہائش گاہ تھی۔دل چاہا کہ ابھی ملاقات کروں۔دروازہ کو دستک دی خادم کوئی ڈیوٹی پر تھا نہیں۔اندر سے حضرت میاں صاحب کی آواز آئی۔کون! خاکسار نے عرض کیا۔حضور میں عبد القادر ہوں اور لاہور سے آیا ہوں۔ملاقات کو جی چاہتا ہے فرمایا۔میں اس وقت سخت مصروف ہوں اگر ضرور ہی ملنا ہے تو ایک منٹ کے لئے آجاؤ۔خاکسار نے آپ کی خاص شفقت کے زعم میں کہا کہ اگر ایک منٹ دینا ہے تو پھر میں کل حاضر ہو جاؤں گا۔فرمایا اگر تم نے کل آنا ہے تو پھر ابھی آ جاؤ۔خیر میں اندر چلا گیا۔آپ غالباً جلسہ سالانہ کے لئے مضمون کی تیاری میں مصروف تھے۔چند منٹ باتیں کیں۔پھر میں خود ہی اجازت حاصل کر کے واپس آ گیا۔خاکسار یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دو چار دن کے اندر ہی خاکسار کے لاہور کے ایڈریس پر آپ کی چٹھی موصول ہوئی جو اب بھی میرے پاس محفوظ ہے اور حضرت میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔کہ افسوس ہے کہ اس دفعہ کام کی کثرت کی وجہ سے آپ کے ساتھ مفصل بات نہیں ہوسکی۔“ خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۵۹-۱۲-۹ مجھے جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو دل میں ندامت پیدا ہوتی ہے کہ میں نے ایسے وقت میں جب کہ آپ پوری توجہ کے ساتھ ایک نہایت ہی ضروری مضمون لکھ رہے تھے کیوں تکلیف دی۔مگر آپ کی وسعت قلبی اور اخلاق کی بلندی دیکھئے کہ یہ محسوس کر کے کہ شاید معمول سے کم وقت ملنے پر بھی آپکے ایک خادم کے دل میں کچھ احساس پیدا ہوا فوراً چٹھی لکھ کر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش فرمائی۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحْمَدٍ وَ الِ مُحْمَدٍ - آپ کی گھریلو زندگی آپ کی گھریلو زندگی کا ایک حصہ آپ کے بچپن کے واقعات میں آچکا ہے۔بقیہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ہی کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے۔آپ فرماتی ہیں: حضرت اماں جان (یعنی حضرت ام المؤمنین سے محبت بھی بے حد کرتے تھے۔اور ادب و احترام بھی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔روز آکر بیٹھنے کے علاوہ مسجد میں آتے جاتے وقت بھی ضرور خیریت پوچھ کر اور باتیں کر کے جاتے۔اپنے دل کا ہر درد دُکھ حضرت اماں جان سے بیان کرتے۔اور حضرت اماں