حیات بشیر — Page 218
218 جان کی دُعا پیارو محبت کی تسلی سے تسکین پاتے۔حضرت اماں جان کی ملازموں تک کو ادب سے پکارتے اور ان کا ہر طرح خیال رکھتے تھے۔جب کسی بڑھیا پرانی ہے تکلف خادمہ سے مذاق بھی کرتے تو بڑے ہی انکسار سے کہ سب ہنس دیتے۔اور وہ نادم سی ہو جاتی۔ابتداء سے ہی جب آمدنی کم اور گذارا اپنا بھی مشکل تھا ضرور ہر ماہ چپکے سے کچھ رقم حضرت اماں جان کے ہاتھ میں ادب اور خاموشی سے وہ ޏ دیدیتے۔آپ کو کوئی حاجت نہ تھی مگر ان کی دلداری کے خیال سے واپس نہیں کرتی تھیں۔ہر وقت اماں جان کے آرام کا خیال رہتا اور خدمت کی تڑپ۔اس معاملہ میں وہ بالکل بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلے اور اُن سے کم نہ رہے۔آپ کی آخری بیماری میں پروانہ وار پھرتے تھے کسی وقت ان کے دل کو چین نہ تھا۔برآمدے میں ہی ٹہلتے پھرتے اور وہیں رہتے کئی بار آکر دیکھتے ہاتھ پکڑتے۔السلام علیکم کہتے اور چلے جاتے۔ہر وقت بعض پردہ دار خدمت کرنے والوں کی وجہ سے کمرہ میں رہ نہ سکتے تھے۔ورنہ وہ تو پٹی نہ چھوڑتے۔شادی ہوئی تو آج کل کی پود کو دیکھتے ہوئے بچہ ہی تھے مگر بہت سنجیدگی اور وقار پہلے پہل کے دن بھی گزارے۔کوئی نا پختگی یا بچپن کی علامت ، لڑائی جھگڑا کسی قسم کی کوئی بات میں نے نہیں دیکھی۔حالانکہ ہر وقت کا ساتھ تھا۔صرف عزیزہ امتہ السلام کی پیدائش پر شرمائے۔ان کو نہ کبھی گود میں لیا نہ بات کی جب وہ بیاہی گئیں تو وفور شرم ٹوٹی۔اور بولنے چالنے لگے۔عزیزہ امتہ السلام کا بچپن تو حضرت اماں جان اور حضرت بڑے بھائی صاحب کی ہی گود میں گذرا انہوں نے ہی سب لاڈ پیار کئے ناز اُٹھائے۔ان کی شادی کے وقت بھی سب اماں جان اور بڑے بھائی پر فیصلہ چھوڑا کہ آپ کو ہی اختیار ہے۔اور بعد میں دوسرے بچوں کے مواقع پر بھی یہی طرز عمل قائم رہا۔اگر حضرت اماں جان نے کہہ دیا کہ فلاں لڑکی سے کر دو اپنے اس لڑکے کا تو بلا چوں و چراں منظور تھا۔اسی طرح لڑکیوں کا معاملہ بھی ان دونوں بزرگ ہستیوں پر چھوڑا۔و منجھلی بھابی جان بیاہ کر آئیں تو نہ معاشرت نه طور و طریق نه وضع لباس وغیرہ نہ زبان کچھ بھی مشترک نہ تھا۔اور آخر نادان کم عمر تھیں۔وہ بے چاری بھی کئی بار