حیات بشیر — Page 216
216 سے گذر رہا تھا۔خیال آیا کہ میں حضرت میاں صاحب سے دریافت کرتا جاؤں کہ انہوں نے سرگودہا سے کوئی چیز تو نہیں منگوانی؟ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو حضرت میاں صاحب خود باہر تشریف لے آئے۔آپ میری بات سن کر یہ فرماتے ہوئے اندر تشریف لے گئے کہ اچھا میں اندر سے دریافت کر کے بتاتا ہوں۔مجھے نصف گھنٹے تک اندر سے کوئی پیغام نہ ملا۔اس پر میں نے ایک ملازم کو جو اندر جا رہا تھا کہا کہ حضرت میاں صاحب غالباً بھول گئے ہیں تم جاؤ گے تو ذرا یاد کرا دینا۔تھوڑی ہی دیر کے بعد حضرت میاں صاحب نے اپنے کام کا پیغام بھجوا دیا۔واپسی پر جب میں نے حضرت میاں صاحب کی مطلوبہ اشیاء اندر بھیجیں تو حضرت میاں صاحب نے مجھے اندر بلا لیا اور مجھے مخاطب ہو کر فرمایا۔میں ذرا بھول جایا کرتا ہوں تم مجھے معاف کر دینا۔‘۳۰ے محترم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب ابن حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نور اللہ مرقده فرماتے ہیں کہ: ”میری آخری ملاقات آپ سے عزیزہ طلعت کی وفات پر ہوئی۔عزیزہ طلعت جب فوت ہوئیں تو آپ کی طبیعت بہت خراب تھی۔جب جنازہ ربوہ پہنچا تو آپ کی شدید خواہش تھی کہ جنازہ میں شامل ہوں۔مگر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ڈاکٹروں کا مشورہ یہی تھا کہ آپ اپنے بستر سے بھی نہ ہلیں کجا یہ کہ باہر جا کر جنازہ میں شامل ہوں مگر آپ بار بار جنازہ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کرتے۔بالآخر ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کو یہ کہنا پڑا کہ ڈاکٹری مشورہ یہی ہے کہ آپ شامل نہ ہوں ورنہ سخت مضر ہوگا۔اس کے بعد آپ نے ہمارے ایک عزیز کے ذریعہ مجھے پیغام بھجوادیا کہ میری تو جنازہ میں شامل ہونے کی بہت خواہش ہے مگر ڈاکٹر اجازت نہیں دیتے۔اگر میں شامل نہ ہو سکوں تو آپ کو کسی رنگ میں گراں تو نہ گزرے گا۔اللہ ! اللہ ! کیا مقام ہے اس بیماری میں بھی جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے اپنے ایک عزیز کا اس قدر خیال ! اب جب بھی میں اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو دل بھر آتا ہے۔“ اسے واقعات تو بہت ہیں مگر اس مختصر رسالہ میں زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ایک واقعہ اپنا لکھ کر