حیات بشیر

by Other Authors

Page 215 of 568

حیات بشیر — Page 215

215 وجہ سے سردی بہت تھی۔حضرت میاں صاحب اس وقت ایک خوشنما دلائی اوڑھے ہوئے تھے۔آپ جب مکان پر جانے کے لئے دفتر سے باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ حضور رات کے دو بجے ہیں۔میرا ارادہ بھی اب دفتر میں سو جانے کا ہے۔اس لئے آج یہ دلائی مجھے عنایت فرماویں۔حضرت میاں صاحب نے اسی وقت وہ دلائی اُتار کر مجھے دے دی۔میں بہت شرمندہ ہوا کہ ایسی سردی میں آپ نے دلائی اتار دی ہے۔میں نے پھر عرض کیا کہ حضور! میں آپ کے مکان تک چلتا ہوں وہاں سے یہ لے آؤں گا۔چنانچہ آپ نے پھر دلائی اوڑھ لی۔مکان پر جا کر وہ دلائی مجھے دے دی اور خود اندر تشریف لے گئے۔میں دفتر میں واپس آ گیا۔ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ نیچے سے آپ کی آواز آئی (قادیان میں حضرت میاں صاحب کا دفتر بالائی منزل پر تھا میں نے جب کھڑکی سے نیچے جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں صاحب نور اللہ مرقدہ اس ناچیز خاکسار کے لئے رضائی لئے کھڑے ہیں۔میں جلدی سے نیچے اترا۔دروازہ کھولا اور آپ سے رضائی لے لی اور اس وقت جذبات کی ایسی شدت تھی اور طبیعت ایسی گداز تھی کہ صرف اتنا ہی عرض کر سکا کہ حضور! رات کے دو بجے ہیں آپ نے یہ تکلیف کی۔فرمایا میں جب بستر میں لیٹ گیا تو مجھے خیال آیا کہ آج سردی بہت ہے۔دلائی میں آپ کا گزارا کیسے ہوگا؟ ملازم سب سوئے ہوئے تھے۔میں نے سوچا یہ ثواب خود ہی حاصل کر لوں۔یہ فرما کر آپ واپس تشریف لے گئے۔میں رضائی اُٹھائے ہوئے چند لمحے حیران و ششدر کھڑا رہا اور پھر آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر دفتر پہنچ گیا۔اس رات پھر میں سو نہیں سکا۔حضرت میاں صاحب کے اخلاق عالیہ کے متعلق ہی سو چتا رہا۔دوسرے دن میں نے ایک خط کے ذریعہ آپ کی اس مہربانی کا شکریہ ادا کیا۔نہ معلوم کیا وجہ تھی کہ میں زبانی حضرت میاں صاحب کے سامنے کچھ بھی عرض نہ کر سکا۔آج بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو عجیب حالت ہوتی ہے۔“ وہ مکرم حمید احمد صاحب اختر ابن میاں عبد الرحیم صاحب مرحوم آف مالیر کوٹلہ کا بیان ہے: ایک مرتبہ میں سرگودہا جانے کے لئے حضرت میاں صاحب کے مکان کے پاس