حیات بشیر — Page 214
214 موقعہ پر کھانا وغیرہ تیار کرنے کے لئے ایک اور جگہ لی گئی اور اس کا اہتمام حضرت میاں صاحب نے اس خاکسار کے سپرد کر دیا ایک دن دو پہر کا کھانا مردانہ حصہ میں لگ چکا تھا۔سیدی حضرت میاں صاحب تشریف لائے جب کھانا شروع ہونے لگا تو آپ نے میرے متعلق دریافت فرمایا کسی دوست نے عرض کیا کہ وہ کھانا تیار کروانے کے انتظام میں مصروف ہے۔آپ نے کھانے سے ہاتھ روک لیا اور فرمایا کہ انہیں بلا لیا جائے۔وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں اور میرے آنے تک حضور انتظار فرماتے رہے۔کھانے کے بعد ایک دوست نے مجھے کہا کہ بھائی آپ قریب ہی رہا کریں۔آج حضرت میاں صاحب کو کافی انتظار کرنا پڑا ہے۔اسی کھانے کا واقعہ ہے کہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کھانے سے فارغ ہوتے ہی اندرون خانہ تشریف لے گئے اور مجھے بلا کر مہمانوں کے لئے کچھ مٹھائی دی۔میں نے اس اثنا میں عرض کیا کہ حضور کھانے کے معاً بعد تشریف لے آئے ہیں۔ہنستے ہوئے فرمایا۔مظفر صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب) کے دوست آئے ہوئے ہیں۔میں نے کہا اب آپ لوگ آپس میں بے تکلف ہو جائیں اللہ ! اللہ ! کس قدر احساس اور کیا اعلیٰ اخلاق ہیں۔۱۹۳۹ء کا واقعہ ہے۔حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ اپنی بلند پایہ تصنیف سلسلہ احمدیہ تالیف فرما رہے تھے۔خیال یہ تھا کہ یہ کتاب جلسہ سالانہ پر شائع ہو جائے۔کیونکہ یہ جلسہ خلافت جوبلی کا تھا دسمبر کا مہینہ شروع ہو چکا تھا اور کتابت و طباعت کا کافی کام ابھی باقی تھا۔اس کتاب کی کاپیوں اور پروفوں کا پڑھنا حوالجات کا نکالنا اور طباعت کا کام میرے سپرد تھا۔جس کا ذکر حضرت میاں صاحب نے اس کتاب کے ”پیش لفظ میں فرمایا ہے۔وقت کی کمی کی وجہ سے اس کتاب کے کاتب سید محمد باقر صاحب کے متعلق حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ کتابت مکمل ہونے تک یہ آپ کے دفتر میں ہی رہا کریں تاکہ آپ کی نگرانی میں کام وقت پر ہو سکے۔حضرت میاں صاحب کا مکان دفتر کے قریب ہی تھا رات کے بارہ ایک بجے تک کام ہوتا اور پھر حضور اپنے مکان پر تشریف لے جاتے۔ایک دن کام بہت زیادہ تھا۔رات دو بجے تک کام کرتے رہے۔بارش اور ہوا کی