حیات بشیر

by Other Authors

Page 208 of 568

حیات بشیر — Page 208

208 اطلاع دے دینا۔میں نے کہا پھر اطلاع کردو۔چنانچہ اطلاع ملنے پر آپ چند لمحات کے اندر ہی تشریف لے آئے اور فرمایا کہ ”میں نے آپ کا بہت انتظار کیا۔اچھا ہوا جو آپ آگئے۔“ پھر آپ اپنے کمرے میں داخل ہوئے اور اپنے سوٹ کیس سے ایک نہایت ہی عمدہ باریک ململ کی پگڑی نکالی اور فرمایا کہ آپ اسے پہنا کریں۔اللهم صل على محمد وعلى ال محمد حضرت ممدوح کی اس نوازش کا مجھ پر اس قدر اثر ہوا کہ اس کے بعد میں جب بھی باہر نکلتا ہوں سر پر پگڑی رکھ کر ہی نکلتا ہوں۔میرا مقصد اس بیان سے صرف یہ ہے کہ آپ کے دل میں ہر وقت یہ خواہش رہتی تھی کہ جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے والی ایک جماعت ہر وقت موجود رہنی چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ پگڑی پہنا کرتے تھے اس لئے آپ یہ چاہتے تھے کہ لباس کے لحاظ سے بھی حضور کی اتباع کی جائے اور اسی جذبہ کے ماتحت آپ نے مجھے پگڑی عطا فرمائی۔حضرت ممدوح کی متابعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس امر سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایک روز آپ مغرب کی نماز کے لئے مسجد مبارک میں تشریف لائے اور خاکسار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج گرمی اس قدر شدید ہے کہ مجھ سے کوٹ برداشت نہیں ہو سکا لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ کوٹ پہن کر مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے اس لئے میں نے حضرت اقدس کی اس سنت کو اس طرح پورا کیا ہے کہ باز و پر رکھ لیا۔اللهم صل على محمد و ال محمد ایک مرتبہ جب کہ خاکسار ربوہ میں نظارت اصلاح وارشاد کے صیغہ نشر و اشاعت کا انچارج تھا مگر کبھی کبھی جلسوں میں شمولیت کے لئے باہر بھی جانا پڑتا تھا۔ایسے ہی کسی موقعہ پر جانے سے قبل حضرت موصوف سے کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے آپ کے دفتر میں حاضر ہوا۔السلام علیکم کہنے کے بعد عرض کی کہ حضرت اگر اجازت ہو تو دو تین منٹوں میں ایک مسئلہ دریافت کرلوں فرمایا۔آج میں بے حد مصروف ہوں۔خاکسار نے عرض کی کیا پھر مغرب کی نماز کے بعد حضور کے مکان پر حاضر ہو جاؤں؟ فرمایا۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مغرب کے بعد کا وقت آج میں داخل نہیں تو آجائیں۔پھر فرمایا۔اذا قيل لكم ارجعوا فـارجـعـوا هـو از کی لکم۔خیر میں ملاقات کے بغیر ہی سفر پر چلا گیا۔جب واپس ربوہ پہنچا تو اتفاق سے چند دن بعد بھی آپ سے ملاقات نہ کر سکا حتی کہ اس کا روز گذر گئے۔ایک روز میں اپنے دفتر کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا کہ اچانک پیچھے کی واقعہ کو پندره طرف سے ایک ہاتھ میرے کندھے پر پڑا۔مڑ کر دیکھا تو وہ ہاتھ حضرت قمر الانبیاء نور اللہ مرقدہ کا