حیات بشیر

by Other Authors

Page 209 of 568

حیات بشیر — Page 209

209 تھا۔آپ کے ساتھ حضرت مرزا عزیز احمد صاحب، حضرت مولوی محمد دین صاحب اور غالبا حضرت ملک غلام فرید صاحب بھی تھے۔میں آپ کو دیکھتے ہی فوراً کھڑا ہو گیا۔آپ نے نہایت ہی مربیانہ لہجے میں فرمایا۔اس روز میں نے کچھ درشت الفاظ استعمال کئے تھے۔معذرت چاہتا ہوں۔میں نے عرض کیا۔حضور۔آپ نے تو مجھے قرآن کریم کا ایک حکم سُنا کر ارشاد خداوندی اور اسوۂ نبوی کا درس دیا تھا۔فرمایا۔یہ صحیح ہے لیکن چونکہ آپ پھر اس کے بعد ملے نہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں مجھ سے کچھ سختی ہو گئی تھی اس لئے معذرت خواہ ہوں۔اللہ اللہ۔اتنا جلیل القدر انسان اور پھر اپنے ایک ادنیٰ خادم سے معذرت خواہ ہو۔یہ صرف آنحضرت علی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کی اتباع کا نتیجہ تھا۔ورنہ آپ کے مقابلہ میں میری بساط ہی کیا تھی اور پھر یہ کوئی قابل معذرت بات بھی تو نہ تھی۔آپ نے ایک جائز بات ہی تو کہی تھی مگر آپ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ آپ حقیقی معنوں میں قمر الانبیاء تھے۔اخویم محترم محمد اجمل خاں صاحب شاہد مربی سلسلہ عالیہ احمد یہ سابق مربی مشرقی پاکستان حال مقیم پشاور فرماتے ہیں: ” مجھے یاد ہے ایک دفعہ مسجد مبارک میں نماز کے بعد خاکسار آپ کے ہمراہ ہو لیا۔آپ نہایت شفقت اور محبت سے خاندانی حالات اور پھر مشرقی پاکستان میں تبلیغ کے متعلق دریافت فرماتے رہے۔اس کے بعد آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا شادی کا معاملہ کسی جگہ طے ہو گیا ہے؟ خاکسار نے جواباً عرض کیا کہ والدین اس سلسلہ میں کوشش کر رہے ہیں۔اس پر حضرت میاں صاحب نے فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے تمام بچوں کی شادی بہت چھوٹی عمر میں کر دی تھی۔چنانچہ خود میری شادی چھوٹی عمر میں ہو گئی تھی۔اس طرح اس زمانہ میں حضور نے اپنی جماعت کے لئے یہ نمونہ قائم کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں کردیں۔جماعت کے دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اسوہ پر بھی عمل پیرا ہونا چاہیے۔‘۲۳ اب بظاہر یہ بات اتنی اہم نظر نہیں آتی۔بلکہ ممکن ہے بعض لوگ اسے گھریلو اور ذاتی واقعہ ہی سمجھ کر کو ئی اہمیت نہ دیں۔مگر حضرت صاحبزادہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی نظر بہت وسیع تھی اور آپ حضرت اقدس کے اس عمل کو بھی احباب جماعت کے لئے اسوۂ حسنہ ہی قرار دیتے تھے۔اور