حیات بشیر

by Other Authors

Page 207 of 568

حیات بشیر — Page 207

207 کہ اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ قبل مکرم مختار احمد صاحب ہاشمی کے سامنے جو آپ نے اقرار کیا وہ بھی آپ کے قلب کی اتھاہ گہرائیوں کی انعکاسی کرتا ہے۔محترم ہاشمی صاحب لکھتے ہیں: آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رقت آمیز لہجے میں فرمایا۔ہاشمی صاحب! آپ اس بات کے گواہ رہیں اور میں آپ کے سامنے اس امر کا اقرار اور اظہار کرتا ہوں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اس وقت سے لیکر اب تک میرے دل میں سب سے زیادہ حضرت سرور کائنات صلے اللہ علیہ وسلم کی محبت جاگزیں ہے۔حدیث میں آتا ہے۔المرء مع من احب اس لحاظ سے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت مجھے وہاں آنحضرت ﷺ کے قرب سے نواز دے گا اور پھر فرمایا کہ آپ اس بات کے بھی گواہ رہیں اور میں آپ کے سامنے اس امر کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر انشراح صدر سے راضی ہوں۔“ ۲۲ آپ کے ہر قول وفعل سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آپ آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود السلام کی محبت میں گداز ہیں اور اس بارہ میں آپ اس قدر احتیاط فرمایا کرتے تھے کہ باریک سے باریک پہلو بھی نظر انداز نہیں فرماتے تھے۔غالباً ۱۹۵۶ء کی بات ہے ایک مرتبہ خاکسار لاہور سے ربوہ گیا مسجد مبارک میں عصر کی نماز سے قبل حضرت صاحبزادہ صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔اتفاق سے اس وقت خاکسار کے سر پر ٹوپی تھی۔آپ نے دریافت فرمایا کہ تم نے ٹوپی کیوں پہن رکھی ہے؟ خاکسار نے عرض کیا۔حضور ! ٹوپی پہننے میں خرچ بہت کم اُٹھتا ہے لیکن پگڑی پر خرچ زیادہ آنے کے علاوہ اُسے بار بار دھونا بھی پڑتا ہے۔فرمایا عصر کی نماز کے بعد میرے مکان پر آنا۔نماز کے بعد آپ کی کوٹھی پر جانے میں مجھے کچھ حجاب سا محسوس ہوا کیونکہ آپ کی گفتگو سے میں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ آپ کے مجھے بلانے کا کوئی خاص مقصد ہے اور اس کا تعلق اس دہ گفتگو سے ہے۔لہذا پہلے تو میں نے کچھ توقف کیا لیکن پھر محترم جناب مرزا عبدالحق صاحب صوبائی امیر سے مشورہ کیا کہ اس بارہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔آپ نے فرمایا ضرور جانا چاہیے چونکہ اس شش و پنج میں قریباً آدھ گھنٹہ صرف ہو گیا تھا۔اس لئے خاکسار جب حضرت قمر الانبیاء کی کوٹھی میں حاضر ہوا تو خادم نے کہا کہ حضرت میاں صاحب تمہارا انتظار کر کے ابھی حضرت میاں عزیز احمد صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے ہیں لیکن مجھے فرما گئے ہیں کہ جب وہ آئے تو مجھے موجوده