حیات بشیر — Page 162
162 دے تو غیر متعلق لوگوں میں بات کرنے کی بجائے صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے اور عقل و دانش کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اس صورت میں براہ راست صیغہ متعلقہ کے افسر کو توجہ دلانی چاہیے ورنہ فتنہ پیدا ہوگا اور جماعت میں بے چینی کا دروازہ کھلے گا۔“ ۴۷۵ انجام بخیر کیلئے درخواست دُعا جولائی اعہ کے آخر میں آپ علاج کی غرض سے لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے دوستوں سے دعا کی درخواست کرتے ہوئے یہ تحریر فرمایا کہ ”جب سے میں نے تریسٹھ سال کی عمر سے تجاوز کیا ہے میرے دل پر بوجھ رہنے لگ گیا ہے کہ رسول پاک علی اللہ والی عمر پالی مگر ابھی تک حقیقی طور پر نیک اعمال کا خانہ بڑی حد تک خالی ہے۔اگر تھوڑی بہت نیکیاں ہیں تو وہ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا نتیجہ اور آپ کا پاک ورثہ ہیں مگر کمزوریاں سب کی سب میری اپنی کمائی ہیں اور یہ کوئی ایسی پونجی نہیں جو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہو پس مخلص احباب اپنی دعاؤں سے میری نصرت فرمائیں کہ میری بقیہ زندگی نیک اور خدمت دین میں کئے اور انجام خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت اچھا ہو۔آمین یا ارحم الراحمین۔“ لاہور تشریف لیجانے پر آپ نے قائمقام امیر مقامی مولانا جلال الدین صاحب شمس کو مقرر فرمایا۔1 جماعت ہائے انڈونیشیا کو پیغام جماعت ہائے انڈونیشیا کی بارہویں سالانہ کانفرنس جو ۲۰ جولائی سے شروع ہوئی تھی اس میں علاوہ اور پیغامات کے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔۴۷۷ کشتی نوح “ اور ” ملفوظات “ جواہرات کی عدیم المثال کا نیں ہیں اگست ۶۱ء میں آپ نے سخت علالت کے باوجود بستر میں لیٹے لیٹے یا سہارے سے بیٹھے بیٹھے اس موضوع پر ایک نہایت پُر درد مضمون لکھا کہ ” بھائیو اپنے مستقبل پر نظر رکھو اور اپنی اولاد کی فکر کرو۔“ اور نصیحت کی کہ کشتی نوح اور ملفوظات کو بار بار پڑھو۔یہ دونوں کتابیں تربیت کے میدان میں جواہرات کی عدیم المثال کانیں ہیں۔جن کی اس زمانہ میں کوئی نظیر نہیں۔۴۷۸