حیات بشیر — Page 130
130 کی طرف سے اعتراض کیا جاتا ہے یا وہ اسلام کی روح کو سمجھنے کیلئے ضروری ہیں۔اسکے بعد آپ نے ان مضامین کی ایک فہرست شائع فرمائی جن پر لکھنے کا آپ ارادہ رکھتے تھے اور بیرونی ممالک میں تبلیغ کا تجربہ رکھنے والے دوستوں سے درخواست کی کہ وہ اس بارہ میں مفید مشورہ دیں۔۳۳۵۔مخالفین کی فتنہ انگیزی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے سفر یورپ پر تشریف لے جانے کے بعد جب پنجاب اور کراچی کے بعض اخباروں میں اس قسم کے فتنہ انگیز نوٹ شائع ہوئے کہ امام جماعت احمدیہ کے ربوہ سے تشریف لے جانے کے بعد ربوہ میں نعوذ باللہ پارٹی بازی اور سازشوں کا میدان گرم ہے اور مختلف پارٹیاں اقتدار حاصل کرنے کے لئے کوشش کر رہی ہیں تو آپ نے اس کی بُر زور تردید کی اور دوستوں کو ان ایام میں خاص طور پر دعاؤں اور صدقہ وخیرات سے کام لینے اور اپنے اندر تقویٰ اور طہارت نفس پیدا کرنے کی تلقین کی۔۶ صدقہ اور دعاؤں کا انتظام ۳۴۶ ۲۹ اپریل کی رات کو جبکہ حضور نے سفر یورپ کے لئے جہاز میں سوار ہونا تھا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تحریک پر مقامی جماعت کی طرف سے صدقہ کا انتظام کیا گیا اور سولہ بکرے ذبح کئے گئے۔نیز رات کو ایک بجے جبکہ حضور نے ہوائی جہاز میں سوار ہونا تھا اہل ربوہ نے آپ ہدایت کے مطابق مسجدوں میں جمع ہو کر نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں کیں۔۳۴۷ کی معتکفین کو ضروری ہدایات مئی ۵۵ء میں آپ نے ربوہ کی مساجد میں اعتکاف بیٹھنے والوں کے لئے بعض ضروری باتیں نوٹ کر کے ان کا مساجد میں اعلان کروایا اور دوستوں کو توجہ دلائی کہ انہیں اپنی نیند اور حوائج ضرور یہ کو قلیل ترین وقت میں محدود کر کے عبادت اور نوافل اور دعاؤں اور ذکر الہی اور تلاوت قرآن مجید اور دیگر دینی مشاغل میں اپنا وقت گزارنا چاہیے۔۳۴۸ ایک پُر درد اور تاریخی دُعا ۲۲ مئی ۵۵ء کو رمضان المبارک کے اختتام پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے مسجد مبارک میں آخری تین سورتوں کا نہایت لطیف درس دیا اور آخر میں اجتمائی دعا کروائی۔یہ دعا اس سوز اور درد کے ساتھ ہوئی کہ بعض غیر از جماعت لوگوں نے جماعت کے تضرع اور گریہ وزاری کی آواز قریباً نصف میل کے فاصلہ سے سُنی اور حیرت کا اظہار کیا کہ یہ گریہ وزاری کیوں ہے۔اس