حیات بشیر — Page 118
118 اور اعلان فرمایا کہ یہ کتاب جلسہ سالانہ کے موقعہ پر یا اس کے بعد شائع کر دی جائے گی۔اجتماعی دعا میں ۲۹۸ جولائی ۱۹۴۹ء میں رمضان المبارک کے اختتام پر جبکہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ کوئٹہ تھے۔رتن باغ لاہور میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اجتماعی دعا کرائی جو سوز وگداز کے عالم میں ۲۰ منٹ تک جاری رہی۔۲۹۹۔ربوہ کا تاریخی سفر 19 ستمبر 19ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی ربوہ میں مستقل رہائش کی غرض سے لاہور سے ربوہ روانہ ہوئے۔اس سفر کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ حضور کے ہمسفر رہے اور اسی دن شام کو لاہور واپس پہنچ گئے۔۳۰۰ے سپین اور انڈونیشیا میں تبلیغ اسلام کی اہمیت ار جنوری ۵۰ ء کو تعلیم الاسلام کالج یونین لاہور نے مسٹر بہروم رنگ کوئی کے اعزاز میں جو انڈونیشیا سے تشریف لائے تھے ایک دعوت طعام دی جس کے بعد ان کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔اس سپاسنامے کا جواب مسٹر بہروم رنگ کوئی نے نہایت اخلاص بھرے الفاظ کے ساتھ دیا۔آخر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک مختصر سی تقریر کی جس میں آپ نے احمدی نوجوانوں کو تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ بعض علاقے ہماری تبلیغ کے خاص طور پر مستحق ہیں۔مثال کے طور پر آپ نے سپین کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ ہمیں مشرق میں انڈونیشیا تک اور مغرب میں سپین تک تبلیغی جدوجہد کو پہلے سے زیادہ وسیع کرنا چاہیے تاکہ ان دونوں کناروں پر اسلام کا جھنڈا زیادہ شان سے لہراتا ہوا نظر آئے۔۳۰۱ے خیر خواہان پاکستان کے نام دردمندانہ اپیل مارچ ۵۰ء میں آپ کا ایک مضمون جو خیر خواہان پاکستان کے نام دردمندانہ اپیل کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔سیکرٹری صاحب تبلیغ جماعت احمدیہ لاہور نے ایک دیدہ زیب ٹریکٹ کی صورت میں شائع کیا۔۳۲۔"المنار" کا اجراء اپریل ۵۰ء میں تعلیم الاسلام کالج میگزین "المنار" کا اجراء ہوا۔جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی ایک مضمون تحریر فرمایا۔۳۰۳