حیات بشیر — Page 119
119 ناسازی طبع جون ۵۰ء میں آپ نے پھر بخار، انتڑیوں کی سوزش اور جگر کے بڑھ جانے کی وجہ سے رخصت حاصل کی۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس کو دفتر خدمت درویشاں میں آپ کا قائمقام مقرر فرمایا۔۳۰۴ے یورپین نو مسلم احباب کی تعلیم و تربیت میں دلچپسی ۱۵ اگست ۵۰ ء کو مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ لنڈن سے واپس تشریف لائے اور دوستوں کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی از راه شفقت لاہور اسٹیشن پر تشریف لے گئے۔آپ دیر تک مکرم چوہدری صاحب سے لنڈن کے نومسلم احباب کے حالات دریافت فرماتے رہے۔آپ نے ان کی تعلیم و تربیت کے انتظام کی تفصیلات میں خاص دلچسپی کا اظہار فرمایا۔۳۰۵ زکوۃ کمیٹی کے سوالات حکومت پاکستان کے فائنینس ڈیپارٹمنٹ نے ۵۰ ء میں ایک زکوۃ کمیٹی مقرر کی تھی جس نے فریضہ زکوۃ کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لئے ۳۹ سوالات مرتب کر کے مختلف انجمنوں اور اداروں کو بھیجے اور ان کی ایک نقل حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو بھی ارسال فرمائی۔ان سوالات کا جواب مرتب کرنے کے لئے حضور نے علماء جماعت احمدیہ کو ہدایت فرمائی اور پھر ان کے پیش کردہ مواد کی روشنی میں حضور نے خود ایک مضمون ڈکٹیٹ کروایا۔وہ علماء جنہوں نے جوابات کی تیاری میں نمایاں حصہ لیا ان میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا نام سر فہرست تھا۔یہ جوابات اکتوبر ۵۰ء میں تشریح الزکوۃ کے نام سے شائع کئے گئے۔۳۰۱ یہ تمام جوابات حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے لکھوائے ہوئے ہیں۔چالیس جواہر پارے نومبر ۵۰ء میں آپ نے اعلان فرمایا کہ میں آج کل ”چالیس جواہر پارے“ کی تصنیف میں مشغول ہوں۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس تصنیف کو قبولیت کا درجہ عطا فرما کر میری مغفرت اور لوگوں کے فائدہ کا ذریعہ بنا دے۔۳۰۷ یہ کتاب دسمبر ۵۰ء میں شائع ہوگئی۔لاہور سے ربوہ جنوری ا۵ء میں آپ نے اعلان فرمایا کہ شروع سال سے میرا دفتر اب لاہور سے ربوہ میں منتقل ہو گیا ہے اور میں خود بھی ربوہ پہنچ چکا ہوں۔اس لئے آئندہ میری ذاتی اور دفتری ڈاک