حیات بشیر — Page 117
117 قادیان کے دو تحفے اگست ۲ ء میں عید الفطر کے موقعہ پر قادیان کے ایک دوست سید محمد شریف صاحب نے آپ کو دو تھے بھیجے۔ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک کا تازہ ترین فوٹو تھا جس میں کتبے کا ایک ایک لفظ پڑھا جاتا تھا اور ساتھ ہی حضرت خلیفہ اسیح الاول کا مزار بھی صاف طور پر نظر آرہا تھا اور دوسرا تحفہ پانچ عدد پھولوں کی صورت میں تھا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب ترین موتیا کے پودے سے اُتار کر بھیجے گئے تھے۔ان تحائف کیوجہ سے قادیان کی یاد آپکے دل میں تازہ ہوگئی اور مزار حضرت مسیح موعود کے پھولوں کی خوشی میں آپ نے یہ دعا فرمائی کہ خدایا جس طرح تو قادیان کا یہ چھوٹا سا نادر تحفہ ہمارے پاس لایا ہے اسی طرح یہ فضل بھی فرما کہ تیری بے حد و حساب قدرت خود قادیان کو ایک مجسم تحفہ بنا کر ہمارے سامنے پیش کر دے۔وما ذالک علی الله بعزيز۔ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم ۲۹۵ قائد اعظم کو خط اگست ۱۸ ء میں جب جناب قائد اعظم محمد علی صاحب جناح مرحوم کوئٹہ میں مقیم تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک خط کے ذریعہ انہیں توجہ دلائی کہ وہ پاکستان کے سرکاری دفاتر کے لئے ہدایت جاری فرمائیں کہ وہ اپنی محکمانہ خط وکتابت میں بھی ہر تحریر کے شروع میں بسم اللہ لکھا کریں اور جہاں مخاطب مسلمان ہوں وہاں السلام علیکم کے الفاظ بھی ضرور لکھا کریں مگر افسوس ہے کہ اس کے چند دن بعد ہی قائد اعظم کا انتقال ہوگیا اور وہ اس خط کی طرف توجہ نہ فرما سکے۔۲۹۲ درویشان قادیان کو ہدایت دسمبر ۱۸ ء میں آپ نے قادیان کے جلسہ سالانہ کے لئے ایک پیغام بھجوایا جس میں تحریر فرمایا کہ قادیان کے دوست تین طریق پر اپنے فریضہ سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔اول شریف مزاج اور سنجیدہ غیر مسلموں کو تبلیغ کر کے، دوم دینی اور اخلاقی لحاظ سے اپنا اعلیٰ نمونہ قائم کر کے ، سوم اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے خدا کے حضور دعائیں کر کے۔۲۹۷ سيرة خاتم النبيين حصّہ سوم کے جزء اوّل کی اشاعت مارچ 19ء میں آپ نے سیرۃ خاتم النبیین حصہ سوم کے جزء اول کی اشاعت کا فیصلہ کیا۔