حیات بشیر — Page 114
114 فرمائے تاکہ کمیشن کو ایسے فیصلہ کی توفیق ملے جو ساری قوموں کے لئے حق وانصاف کا فیصلہ ہو اور ملک میں امن و اتحاد کا موجب بنے۔۲۸۳ قادیان اور ضلع گورداسپور کیلئے امیر ۳۱ اگست ۲۷ ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعتی مشورہ سے بعد دو پہر ایک بجکر پندرہ منٹ پر کیپٹن عطاء اللہ ظہور احمد صاحب کی اسکیورٹ کے ذریعہ قادیان پاکستان کے لئے روانہ ہو گئے۔۱۴ ۲۸۴ روانہ ہونے سے قبل حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو جماعت قادیان اور جماعت ضلع گورداسپور کے نام ایک پیغام لکھ کر دیا اور ہدایت فرمائی کہ حضور کے روانہ ہونے کے بعد آپ اُسے جماعت تک پہنچا دیں۔اس پیغام میں حضور نے ضروری ہدایات دینے کے بعد تحریر فرمایا کہ: میں اپنی غیر حاضری کے ایام میں عزیز مرزا بشیر احمد صاحب کو اپنا قائمقام ضلع گورداسپور اور قادیان کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ان کی فرمانبرداری اور اطاعت کرو اور ان کے ہر حکم پر اسی طرح قربانی کرو جس طرح محمد رسول اللہ علیہ نے فرمایا ہے آپ فرماتے ہیں من اطاع امیری فقد اطاعـنــي ومن عصى اميري فقد عصانی۔یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔پس جو ان کی اطاعت کرے گا وہ میری اطاعت کرے گا اور جو میری اطاعت کرے گا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کرے گا اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کرے گا وہ رسول کریم ﷺ کی اطاعت کرے گا اور وہی مومن کہلا سکتا ہے دوسرا نہیں۔“ ۲۸۵ مزار حضرت مسیح موعود پر دعا ستمبر ۴۷ء میں جب حالات زیادہ مخدوش ہو گئے تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک دن نماز عصر کے بعد صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر اجتماعی دعا فرمائی جو قریباً نصف گھنٹہ تک جاری رہی۔۲۸۶