حیات بشیر — Page 113
113 کیونکہ وہ جغرافیائی اور اقتصادی لحاظ سے ایک قدرتی یونٹ ہے اور اسے ہندوستان کی تقسیم پر قیاس کرنا اور اس کا طبعی نتیجہ قرار دینا بالکل خلاف انصاف اور خلاف عقل ہے۔باؤنڈری کمیشن کیلئے تیاری ۱۴ جون ۷ء کے الفضل میں آپ نے ایک مضمون کے ذریعہ دوستوں کو توجہ دلائی کہ پنجاب کی تقسیم ناگزیر ہے مگر ہمارا فرض ہے کہ آخری وقت تک جدوجہد جاری رکھیں اور پھر باؤنڈری کمیشن کے لئے مسلمانوں کو وسیع تیاری کی ضرورت کی طرف متوجہ فرمایا۔۲۸۱ 6 ”شیر پنجاب کو لطیف جواب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مضمون خالصہ ہوشیار باش پر سکھوں کے اخبار شیر پنجاب نے ۱۵ جون ۴۷ کے پرچہ میں تنقید کی جس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے ۲۰ رجون ۷ء کے الفضل میں ایک مضمون لکھا۔”شیر پنجاب نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ احمدی ان مظالم کو یاد کریں جو گذشتہ زمانہ میں مسلمان ان پر کرتے رہے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ اتحاد نہ کریں اس پر حضرت میاں صاحب نے یہ نہایت ہی لطیف جواب دیا کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ مسلمانوں کا ایک حصہ احمدیوں کی مخالفت میں پیش پیش رہا ہے اور ہمیں اپنی تلخ آپ بیتی بھولی نہیں بلکہ وہ ہماری تاریخ کا ایک سنہری ورق ہے جس نے ہمیں قومی بیداری اور تنظیم کے بہت سے بچے سبق سکھائے ہیں۔مگر باوجود اس کے مجھے افسوس ہے کہ آپ کا یہ داؤ ہم پر نہیں چل سکتا کیونکہ ہماری گھٹی میں یہ تعلیم پڑی ہوئی ہے کہ مخالفت میں فرد کی طرف نہ دیکھو بلکہ اصول کی طرف دیکھو اور دشمنی انسانوں کے ساتھ بھی نہ رکھو بلکہ صرف بُرے خیالات کے ساتھ رکھو کیونکہ کل کو یہی مخالف لوگ اچھے خیالات اختیار کر کے دوست بن سکتے ہیں چنانچہ احمدیوں کا پچانوے فیصدی حصہ دوسرے مسلمانوں میں سے ہی نکل کر آیا ہے۔پس اگر گذشتہ زمانہ میں کسی نے ہم پر ظلم کیا ہے تو اس وقت ہم اس کے ظلم کو حوالہ بخدا کر کے صرف یہ دیکھیں گے کہ انصاف کا تقاضا کیا ہے اور ان افراد کے متعلق ہم بہر حال عفو اور رحم کے عنصر کو مقدم کریں گے۔۲۸۲ اصولی نوٹ جولائی ۴۷ء میں آپ نے پنجاب باؤنڈری کمیشن کے غور کے لئے چند اصولی نوٹ شائع