حیات بشیر

by Other Authors

Page 115 of 568

حیات بشیر — Page 115

115 حضرت مسیح موعود کی ایک عظیم الشان پیشگوئی کا ظہور ان انتہائی نازک ایام میں مخالفین کے ہر قسم کے بد ارادوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خاص طور پر حفاظت فرمائی اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ رویا نہایت صفائی سے پورا ہو گیا جس میں آپ کو دکھایا گیا تھا کہ اس قدر زنبور ہیں (جن سے مراد کمینہ دشمن ہیں) کہ تمام سطح زمین ان سے پُر ہے ٹڈی دل سے زیادہ ان کی کثرت ہے اس قدر ہیں کہ زمین کو قریباً ڈھانک دیا ہے اور تھوڑے ان میں سے پرواز بھی کر رہے ہیں جو نیش زنی کا ارادہ رکھتے ہیں۔مگر نامراد رہے اور میں اپنے لڑکوں شریف اور بشیر کو کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی یہ آیت پڑھو اور بدن پر پھونک لو کچھ نقصان نہیں کریں گے اور وہ آیت یہ ہے واذا بطشتم بطشتم جبارين ع اس رؤیا میں بتایا گیا تھا کہ ایک زمانہ میں حالات ایسے بگڑ جائیں گے کہ دشمن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب دونوں کو نقصان پہنچانا چاہے گا مگر اللہ تعالیٰ اُسے نامراد رکھے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آپ خدائی حفاظت میں سلامتی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی پاکستان میں تشریف آوری ۲۲ ستمبر ۴۷ہ کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب میجر داؤد احمد صاحب کی اسکیورٹ میں قادیان سے روانہ ہو کر لاہور (پاکستان) میں تشریف لے آئے۔آپ کے بعد حضرت امیر المؤمنین کے ارشاد کے ماتحت حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ایم اے مقامی امیر مقرر ہوئے۔۲۸۸ حفاظت مرکز آپ کے پاکستان میں تشریف لانے کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ”حفاظت مرکز کے نام سے ایک جدید صیغہ قائم فرمایا جس کا تعلق درویشان قادیان کے ساتھ تھا اور اس کا ناظر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو مقرر فرما دیا۔جس پر آپ اپنے وصال تک فائز رہے۔