حیات بشیر

by Other Authors

Page 112 of 568

حیات بشیر — Page 112

112 کمیٹی بنادی گئی تھی جس میں احمدیوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں اور سکھوں اور ہندوؤں نے بھی شرکت کی اور اس کمیٹی کی وجہ سے قادیان اور اس کے ماحول میں الحمد للہ اچھا اثر پیدا ہوا۔“ وہ ناظر اعلیٰ کی حیثیت میں آ یکی شاندار خدمات ان ایام میں سیاسی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو صدر انجمن احمدیہ کا ناظر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔چنانچہ آپ نے ان ایام میں ایک بیدار مغز قائد کی طرح اپنی ذمہ داریوں کو نہایت احسن طریق پر سرانجام دیا اور سیاسیات میں ہندوؤں اور سکھوں کی راہنمائی کیلئے نہایت ٹھوس اور مدلل مضامین لکھے۔آپ نے مسلمانوں کے قومی مفاد کی خاطر قائداعظم مسٹر محمد علی جناح جو اس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر تھے ان کو بھی بعض نہایت قیمتی مشورے دیے۔۲۸۰ خالصہ ہوشیار باش ور مئی ۴۷ء کے الفضل میں ”خالصہ ہوشیار باش“ کے زیر عنوان آپ نے سکھ صاحبان درد مندانہ اپیل کی کہ ان کا فائدہ ہندوؤں کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کرنے میں ہے۔اس لئے وہ اس وقت کو غنیمت سمجھیں اور مسلمانوں کے ساتھ باعزت سمجھوتہ کر لیں۔یہ مضمون علیحدہ پمفلٹ کی صورت میں اردو انگریزی اور گور مکھی تینوں زبانوں میں شائع ہوا۔پٹیالہ کے ایک اخبار ”خادم“ مؤرخہ ۶ ارجون کے پیر میں بھی اس کی اشاعت ہوئی۔ء مطالبہ پاکستان اور تقسیم پنجاب ۱۹ رمئی ۷ء کے اخبار میں آپ نے مسلمانوں کا مطالبہ پاکستان اور اس کے مقابل پر پنجاب کا سوال زیر بحث لاکر مطالبہ پاکستان کی اہمیت کو واضح فرمایا اور ساتھ ہی اس امر پر زور دیا کہ پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ سراسر غیر منصفانہ بلکہ ظالمانہ مطالبہ ہے۔۲۲ رمئی کو آپ نے اس امر پر ایک مضمون کے ذریعہ روشنی ڈالی کہ اگر خدا نخواستہ پنجاب تقسیم ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں ہمیں بعض شرائط کو بہر حال ملحوظ رکھنا چاہیے اور پھر آپ نے پانچ شرائط کا ذکر فرمایا جن کو ملحوظ رکھنا آپ کے نزدیک بڑا ضروری تھا۔وزیر اعظم برطانیہ کو تار ۲۴ رمئی کو بحیثیت چیف سیکرٹری جماعت احمدیہ قادیان آپ نے مسٹر ایٹلے وزیراعظم برطانیہ اور مسٹر چرچل لیڈر حزب مخالف کو تار بھجوایا کہ احمدیہ جماعت پنجاب کی تقسیم کے سخت خلاف ہے