حیاتِ بقاپوری — Page 42
حیات بقا پوری 42 پادری صاحب کے سوالوں کا جواب دیتا۔راجہ صاحب نے کہا کہ ہمارے مولوی صاحب تو آئے بیٹھے ہیں۔اس پر سب وکیل اور بیرسٹر کہنے لگے۔تو انہیں کہیں کہ وہ ان سوالوں کے جواب دیں وگرنہ ہماری سخت بے عزتی اور سکی ہو گی۔راجہ صاحب نے مجھے کہا تو میں نے جواب دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔کہ صداقت کے بیان کرنے کے لیے وقت دیکھ لیا کرو۔اب دس بج چکے ہیں اور گیارہ بجے اجلاس ختم ہو جائے گا کیونکہ وقت سات سے گیارہ تک تھا اور پھر کچھ آدمی اس بدمزگی کی وجہ سے اٹھ کر چلے بھی گئے ہیں۔بہتر ہے کہ کل کا وقت مقرر کر لیا جائے۔جب یہ بات راجہ صاحب نے پادری صاحب کو کہی تو پادری جوالا سنگھ نے کہا۔میں کب کہتا ہوں کہ یہی مولوی صاحب جواب دیں۔کوئی اور مولوی صاحب اٹھیں اور جواب دیں۔اس پر راجہ صاحب نے کہا۔پادری صاحب اب تو دس بج چکے ہیں اور وقت ختم ہو نیوالا ہے اس میں تو پہلی تقریر بھی پوری نہ ہوگی۔اس لیے بہتر ہے کہ کل وقت رکھا جائے۔اس پر پادری جوالا سنگھ نے کہا بہت اچھا اور اعلان کر دیا کہ کل بھی مباحثہ ہوگا کل تمام لوگ ضرور تشریف لائیں۔غرض جلسہ برخاست ہوا اور بعض وکیل اور دوسرے غیر احمدی دوست کہنے لگے کہ قادیان سے کچھ اور عالم بھی منگوالیں کرایہ وغیرہ ہمارے ذمہ ہو گا۔اس پر میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عریضہ بھیجوایا اور دعا کی درخواست کی اور یہ بھی عرض کیا اگر حضرت مفتی صاحب تشریف لائیں تو بہتر ہے۔ہمارا آدمی جو خط لے کر گیا تھا وہ مغرب کے وقت قادیان پہنچا۔حضور نے دعا فرمائی اور نماز مغرب کے بعد حضرت مفتی صاحب کو فوری روانگی کا حکم دیا۔چنانچہ وہ اُسی وقت روانہ ہو کر صبح سویرے تشریف لے آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ جو آدمی پیام لے کر گیا تھا وہ مغرب کی اذان کے وقت قادیان پہنچا تھا۔حضرت اقدس کے حضور آپ کا خط بھجوایا گیا۔حضور نے اُسی وقت مجھے نماز کے بعد حکم دیا کہ اُسی وقت روانہ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور کی دعا اور توجہ کی برکت سے میری تقریر بہت موثر ثابت ہوئی اور لوگوں نے اسے اس قدر پسند کیا کہ میں خود حیران رہ گیا۔وہ حقائق اور معارف جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوشہ چینی سے میں نے جمع کئے تھے محض الہی تائید کے ساتھ اُن کے بیان کرنے کی توفیق ملی۔فالحمد للہ اس مجمع میں قریباً سات آٹھ ہزار کی نفری ہوگی۔اور لوگ پہلے جلسوں سے بھی زیادہ آئے تھے۔میں نے صبح اپنی تقریر کے مضمون کو ترتیب دے لی تھی۔ان میں سے ایک بات مجھے یا درہ گئی ہے جو میں نے اس وقت بیان کی