حیاتِ بقاپوری — Page 43
حیات بقاپوری 43 تھی اور وہ یہ ہے۔میں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی صفت کلام کا مظہر ہے اور یہ ضروری امر ہے کہ صفت میں بھی موصوف کی جھلک نمایاں ہو اور صفت وہی ہے جو موصوف پر دلالت کرے۔اس لحاظ سے قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے وجود کی روشن دلیل ہے اور اس کے متعلق خود قرآن پاک کے اُتارنے والا فرماتا ہے: مثلا گلمی طبية التجربة طبية اصلها فات وفرعها فى السماء - توتي أكلها كل حین پاڈن رکھا۔(۲۵:۱۴۔۲۶) کہ ہمارے اس کلام کی مثال شجرہ طیبہ کی طرح ہے جس کی جڑ اس طرح مظبوط ہے کہ وہ دعوئی بھی خود کرتا ہے اور اپنے دعوے کی دلیل بھی خود ہی دیتا ہے۔جیسا کہ سورج اپنے وجود کی خود دلیل ہے۔آفتاب آمد دلیل آفتاب قرآن کریم میں جس قدر تعلیمیں ہیں جس قدر ہدا ئتیں ہیں۔اول تو اُن کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔دوسرے اُن کی صداقت کا ثبوت یہ دیا گیا ہے کہ ان پر عمل پیرا ہونے سے ایک معمولی انسان روحانی انسان بن جاتا ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرا تعلق ہو جاتا ہے اور یتعلق کسی خاص زمانہ کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ قرآن پاک کے نزول سے آج تیرہ چودہ سو سال تک اس کا ثبوت ملتا چلا آ رہا ہے۔اور اسلام کے اندر ہر زمانہ ہر ملک ہر ایک قطعہ زمین میں ایسے کامل افراد پیدا ہوتے چلے آئے ہیں جو علماء اسی کا نبیاء بنی اسرائیل کے مصداق تھے اور مجددین اور ائمہ ھدی اور خلفاء راشدین کا سلسلہ جاری ہے۔جن کے ہاتھ پر قرآن کریم کے منزل علیہ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں آسمانی نشان ظاہر ہوتے رہے ہیں اور جن سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا رہا ہے اور اپنے الہام کے ذریعہ اپنی رضا مندی کی راہوں سے اطلاع دیتا رہا ہے۔اور یہی بات اسلام کے زندہ مذہب ہونے ، قرآن پاک کے زندہ جاوید کلام ہونے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ رسول ہونے کی روشن دلیل ہے۔لیکن جس مذہب میں یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ اب کوئی خدا رسیدہ پیدا نہیں ہو سکتا جو تکلم مع اللہ ہونے کا مدعی ہو سکے، ایسا مذہب زندہ نہیں بلکہ مروہ ہے۔اس کی کتاب مردہ ہے۔اور اس سلسلہ میں میں نے مجد دین اور ائمہ ہدی اور خلفائے راشدین مہد تین کے نام گنوائے۔اور یہ بھی کہا کہ ہمارے اس زمانہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے خالی نہیں رہنے دیا اور اپنا ایک عظیم الشان بندہ تجدید دین کے لیے کھڑا کیا۔لیکن عیسائی مذہب میں دو ہزار سال سے یہ زندگی مفقود ہے۔میری دو گھنٹہ کی تقریر کے بعد جب پادری جوالا سنگھ اٹھا تو بجائے اس کے کہ اصل موضوع پر کچھ کہتا۔اس نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ خدا تعالیٰ کی صفات مین ہیں یا غیر؟ لیکن میں اپنے وقت میں اس عین غیر کے موضوع میں