حیاتِ بقاپوری — Page 365
حیات بقا پوری 365 وقت یہ ظاہر نہ کیا۔کہ یہ روپیہ بطور ہبہ ہے۔فرمایا۔فی الحال جا کر شادی کا انتظام تو کرو۔مستری صاحب اپنی لڑکی کے رخصتانہ سے فارغ ہونے کے چند روز بعد جب اسٹامپ لیکر حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور کہا کہ اب اسٹامپ لکھوا لیجئے۔تو ابھی حضرت مولانا صاحب بولنے بھی نہ پائے تھے کہ اندر سے آپ کے گھر والوں کی طرف سے مستری صاحب کے کان میں ایک عجیب قسم کی ہمدردی کی آواز پہنچی جس کا مستری صاحب کو وہم وگمان ہی نہ تھا۔اندر سے بولیں۔کہ بھائی صاحب ابیہ روپیہ تو ہمارے بیٹے نے بھیجا تھا۔یہ روپیہ آپ کو آپ کی لڑکی کے رختانہ کیلئے تحفہ کے طور پر دیا تھا۔آپ ہمارے لئے اور ہمارے بیٹوں کیلئے دعا کریں۔کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور ہمارے اس کام کو قبول فرمائے۔جب وہ مستری صاحب جس کا چہرہ تفکرات غربت اور ادائیگی رقم کے بوجھ کی وجہ سے مرجھایا ہوا تھا۔اس خوشخبری کے سنتے ہی خوشی سے یک دم چمک اٹھا اور دعائیں دیتے ہوئے خوشی خوشی واپس گھر چلا گیا۔محترم سید عباس علی شاہ صاحب جنہیں حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہے۔اور اس طرح سے آپ کو حضرت مولانا کی سیرت کے اوراق کو قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقعہ ملا ہے۔اپنے تاثرات قلبی کی شہادت اپنے ایک مکتوب میں ان الفاظ سے فرماتے ہیں: خاکسار کو معلوم ہوا ہے کہ آپ حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی سوانح حیات شائع فرما ر ہے ہیں۔اس سلسلہ میں میں بھی چند سطور لکھ رہا ہوں۔جن سے حضرت مولوی صاحب کے تعلق باللہ، موثر طر ز تبلیغ اور صاف گوئی پر روشنی پڑتی ہے۔خاکسار کا رجحان بچپن سے دین کی طرف تھا۔اور دینی امور سے دلچسپی تھی۔میرے رشتہ دار شیعہ خیالات رکھتے تھے۔لیکن میرے والد بزرگوار آزاد خیال تھے۔سرسید احمد خان کی تصانیف سے دلچسپی رکھتے تھے۔اور ان کی ان کوششوں سے جو انہوں نے مسلمانوں کی ترقی کیلئے کیں بہت حد تک متاثر تھے۔ان کی تصانیف تفسیر قرآن اور دیگر کتب خاکسار کو پڑھنے کیلئے دیتے تھے۔سلسلہ احمدیہ کی بھی چند کتب آپکے پاس تھیں۔میں بھی ان کے مطالعہ سے وقتاً فوقتاً مستفید ہوتا۔ان دنوں ہماری رہائش کو ئٹہ میں تھی۔میں نے اپنی تعلیم بھی گورنمنٹ ہائی سکول کوئٹہ میں پا کر میٹرک کا امتحان دیا۔وہاں کوئٹہ میں بھی ایک دفعہ خاکسار نے خواب دیکھا۔جو مولوی عبد