حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 366 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 366

حیات بقاپوری 366 الرحمن صاحب مبشر کی کتاب "بشارات رحمانیہ میں شائع ہو چکا ہے۔اس خواب کے بعد میری کچھ توجہ سلسلہ احمدیہ کی طرف ہوئی۔اور سلسلہ کے لڑیچر کا میں مطالعہ کرنے لگا۔حسن اتفاق سے ۱۹۲۹ء میں خاکسار کی ملاقات حضرت مولا نا بقا پوری صاحب کے ساتھ ہوئی۔اور آپ سے سلسلہ احمدیہ کے عقاید کے متعلق گفتگو کا موقعہ ملا۔میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا صاحب بجائے اس کے کہ مناظرانہ رنگ میں دلائل پیش کر کے مجھے قائل کرنے کی کوشش فرماتے۔آپ نے میری توجہ کو اس طرف پھیرا۔اور اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے ہمارا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم ہو گیا ہے۔وہ ہماری دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے۔وفات مسیح کے مسئلہ پر فرمایا۔کہ میں نے خود کشفی رنگ میں حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت یحیی علیہ السلام کے ساتھ دیکھا ہے۔اب ہم کیسے مان سکتے ہیں کہ وہ جسد عصری کے ساتھ آسمان پر اب تک موجود ہیں۔جبکہ سارے نبی بلکہ سید الانبیاء بھی وفات پاچکے ہیں۔حضرت مولوی صاحب کے طرز استدالال نے مجھے نہایت ہی متاثر کیا۔مجھے آپ سے یگانگت محسوس ہوتی تھی۔اور ایسا معلوم ہوتا کہ جماعت احمد یہ بھی کوئی اجنبی جماعت نہیں۔حضرت مولوی صاحب کی سادگی، نیکی، تہجد گزاری اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق یہ ایسی چیزیں تھیں۔جو دل پر بہت اثر کرنے والی تھیں۔انہی باتوں سے متاثر ہو کر خاکسار نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی مبصرہ العزیز کی خدمت میں درخواست دعا کا خط لکھ دیا۔اور حضور جب سندھ تشریف لے جانے لگے۔تو خاکسار بھی روہڑی سٹیشن تک ہمراہ گیا۔اور پھر بہت جلد بیعت کا خط بھی لکھ دیا۔اور جلسہ سالانہ پر دستی بیعت بھی کر لی۔اس عرصہ میں وقتا فوقتا حضرت مولوی صاحب کی زیارت کا بھی شرف حاصل کرتا رہا۔کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ خاکسار کو حضرت مولوی صاحب سے اور زیادہ قریب ہونے کا موقعہ ملا۔۳۶ ۱۹۳۵ میں جب کہ خاکسار نے اپنی شادی کے متعلق مختلف رشتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے استخارہ کیا تو خاکسار کو صریحاً بتایا گیا کہ میں حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کے ساتھ تعلق پیدا کروں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بعد میں وہ حالات پیدا فرما دے۔کہ خاکسار کو آپ کی فرزندی میں آنے کا شرف حاصل ہوا۔اور ا س طرح مجھے آپ کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقعہ میسر آیا۔چنانچہ خاکسار ۱۹۳۶ء سے اب تک دیکھ رہا ہے۔کہ حضرت مولانا صاحب بفضلہ تعالٰی نمازوں کو بغیر کسی ناغہ اور ستی کے اب تک باوجود بہت زیادہ پیرانہ سالی کے ہمیشہ اول وقت میں ادا کرتے ہیں۔جب بھی طبیعت ٹھیک ہو۔اب بھی مسجد میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ورنہ گھر میں اکثر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔آپ کی اس باقاعدگی کی وجہ سے گھر کے تمام افراد عورتیں بچے سب نمازوں میں باقاعدہ حصہ لینے کے عادی ہیں۔چندے آپ شرح صدر سے باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔پچھلی رات بلا ناغہ اٹھ کر نماز تہجد با قاعدہ ادا کرتے ہیں۔اور قرآن کریم کی تلاوت صبح کو نماز سے پہلے ختم کر لیتے ہیں۔پھر