حیاتِ بقاپوری — Page 364
حیات بقاپوری 364 اس مستری صاحب کا بیٹا کھانا لایا۔اور دونوں مل کر کھانا کھانے لگے۔تو اتفاق سے مولوی صاحب بھی تشریف لے آئے۔اور آپ کی نظر جب ان پر پڑی تو دیکھا کہ گڑ کے ساتھ روٹی کھا رہے ہیں۔یہ دیکھتے ہی فورا اندر چلے گئے۔اور سالن لے آئے۔مستری انکار کرنے لگے۔آپ نے اصرار کر کے دیا اور فرمایا۔آئندہ بجتنا عرصہ تمہیں یہاں کام کرنا ہوگا۔سالن ہمارے ذمہ ہو گا۔کام ختم ہونے پر جب مستری نے مولانا صاحب کی خدمت میں بل پیش کیا تو اس میں رقم مولانا صاحب کے تخمینہ کی رو سے کم تھی۔وجہ پوچھی تو مستری نے بتایا۔کہ رقم اجرت اگر چہ تین آنے فٹ کے حساب سے اتنی نہتی تھی۔مگر میں نے آپ کیلئے پونے تین آنے فٹ کے حساب سے رقم لگائی ہے۔کیونکہ ہم نے اتنا عرصہ آپ کا نمک کھایا ہے۔حضرت مولانا نے فرمایا نہیں ! نہیں! میں نے آپ پر تو کوئی احسان نہیں کیا۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل کی۔جو آپ نے فرمایا کہ جب سالن پکاؤ۔تو محتاج ہمسائے کی خاطر سالن کا شور بہ زیادہ کر لیا کرو۔اچھا آپکے اس احساس کی خاطر اب میں آپکی مقرر کردہ اجرت میں بھی اضافہ کر دونگا۔آپ کی اجرت تین آنے فٹ کے حساب سے جتنی بھی تھی۔اس کے بجائے اب میں سوا تین آنے فٹ کے حساب سے دوں گا۔غرض مستری صاحب پونے تین آنے کے حساب پر مصر تھے۔اور حضرت مولانا سواتین پر زور دے رہے تھے۔آخر تین آنے فٹ کے حساب سے مستری اجرت لینے پر راضی ہو گیا۔دوسرا واقعہ جو والد صاحب نے بتایا وہ اس سے بھی بڑھ کر تعجب خیز ہے۔یہی مستری صاحب جو حضرت مولانا صاحب کے اخلاق کا نمونہ دیکھ چکے تھے۔۱۹۴۲ء میں اپنی ایک پیش آمدہ مشکل کے حل کیلئے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں پہنچ کر عرض کی کہ میری لڑکی کے رخصتانہ کی تقریب ہے۔میں غریب ہوں۔مجھے اس موقعہ پر اخراجات کیلئے یکصد روپیہ کی ضرورت ہے۔اگر آپ یہ روپیہ بطور قرض مجھے دیں تو میں انشاء اللہ تعالیٰ پانچ روپے ماہوار کی صورت میں بالا قساط رقم ادا کر دوں گا۔اس پر حضرت مولانا صاحب نے فرمایا کہ اس کے متعلق میں کل جواب دونگا۔مستری صاحب کے چلے جانے کے بعد حضرت مولوی صاحب نے اپنے گھر میں اس کا ذکر کیا۔ان دنوں اتفاق سے آپ کے صاجزادہ میجر ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب بھی رخصت پر گھر آئے ہوئے تھے۔حضرت مولانا صاحب کی عمدہ تربیت کا اثر بھی حمد اللہ آپ کی اولاد پر اس قدر ہے کہ اولاد بھی آپ کے رنگ میں رنگین ہے۔الولد سر لابیه - چنانچہ ڈاکٹر مجد اسحاق صاحب نے اس بارہ میں اپنی خدمت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم میرے ذمہ رہی۔اس وقت تو آپ یہ رقم کہیں سے لے کر اس کی ضرورت پوری کر دیں۔میں یہ رقم رخصت سے واپس جانے پر آپ کو بھیج دونگا۔چنانچہ دوسرے دن حضرت مولانا نے یکصد روپیہ کہیں سے لیکر مستری صاحب کو دے دیا۔بلکہ اس کے علاوہ کچھ چاول بھی اپنی طرف سے زائد دیئے۔تحریر اسٹامپ کے متعلق مستری کچھ کہنے لگا۔مگر آپ نے اس