حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 320 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 320

حیات بقا پوری 320 و ذیل رپورٹ سے ظاہر ہوتی ہے۔جو ۱۳ اپریل 1995 ء کے الفضل میں شائع ہوئی۔وہو ہذا : چند شبہات کا رد (1) مامور کاظل ہوتا ہے۔یہ سنت اللہ ہے کہ خلافت کے وقت اختلاف پڑے۔اور لوگ آزمائے جائیں۔کیونکہ خلیفہ اپنے (۲) یہ لوگ (غیر مبایعیں) قرآن و حدیث سے پورے واقف نہیں۔مثلاً مولوی محمد علی صاحب ہی کولو کہ آیت قُلِ الله ثُمَّ ذَرْهُمْ (۹۲:۲) کے معنے مولوی محمدعلی صاحب نے یہ کئے ہیں کہ اللہ منوا کر چھوڑ دو۔کیسے غلط ہیں۔اور جب ان معنوں پر کسی نے اعتراض کیا ہے تو جناب پیغام مسلح ۲۴۔مارچ ۱۹۱۴ء میں یوں فرماتے ہیں۔یہ معنے میرے نہیں۔بعینہ حضرت خلیفہ اسیح کے الفاظ ہیں۔یہ اخباروہ ہے جس کوخلیفہ اول پیغام جنگ کہا کرتے تھے۔یا صرف پیغام۔اب ہم ناظرین کو بتلاتے ہیں کہ نہ یہ معنے درست ہیں اور نہ حضرت خلیفہ اول کے معنے ہیں بلکہ جو حضرت مولانا صاحب امیر المومنین خلیفہ اول کے معنے صحیح اور یقینی ہیں وہ اخبار بدر ۴۵ مورخہ 9 ستمبر 191 ء میں یوں درج ہیں: 66 کلام امیر فرمایا قل الله ثم ذرھم کے یہ معنے نہیں کہ اللہ اللہ کرتے رہو۔کیونکہ محض اللہ اللہ ہماری شریعت اسلامی میں ثابت نہیں۔بلکہ یہ تو جواب ہے من انزل کا کہ یہ کتاب کس نے اُتاری تو کہ اللہ نے۔(۳) تیسرا شبہ اُن کو یہ پڑتا ہے کہ جناب مسیح اسرائیلی کے بعد سلسلہ خلفاء شروع نہ تھا بلکہ انجمن کام کرتی رہی ہے۔تو اس کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ تاریخ شہادت نہیں دیتی۔حالانکہ عدم علم شئے سے عدم ھی لازم نہیں آتا مثلا مسیح کی ۳۳ سال بعد کی زندگی یعنی بعد واقعہ صلیب کے حالات سے تاریخ ساکت ہے تو خلفاء کا کیا ذکر کرے۔تو جیسا تاریخ کا سکوت نبی کے وجود کی نفی نہیں کرتا۔ایسا ہی اُسکے خلفاء پر بھی کوئی اثر نہیں ڈالتا۔کیونکہ مسیح کی طبعی موت کے بعد سلسلہ خلافت چلا ہو گا۔ہاں البتہ لفظ مِن قَبْلِهِمْ سے مراد یہود و نصاری دونوں ہیں وجہ تخصیص یہود نا معلوم۔نیز ہمارے مسیح موعود علیہ السلام بروز محمد بھی تھے۔اس لحاظ سے بھی آپ کا سلسلہ خلافت جمالی رنگ میں جاری ہونا ضروری ہے۔نیز نبی کریم خاتم انہیں ہیں اور آپ مسیح موعود خاتم الخلفاء تو جیسا وہاں نبی