حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 319 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 319

حیات بقاپوری 319 کی علالت موت کی شکل میں نظر آئی۔اور انہوں نے ایک جانشیں کی وصیت کر دی۔اس رسالہ کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اگر ہو تو کسی احمدی کو بیعت کی ضرورت نہیں۔اور وہ خلیفہ ایسا ہو جو انجمن کے ماتحت ہو۔نعوذ باللہ من ذالک۔باوجودیکہ یہ رسالہ پہلے سے چھپوا کر رکھا گیا تھا اور ریویو آف ریلیجنز اردو کے خریداروں کی چٹیں اس کی روانگی کے لئے حاصل کی گئی تھیں جو کسی خاص کی ملکیت نہ تھیں۔بلکہ وہ کل احمدی قوم کی امانت تھی۔اور اس کو عین وفات کی خبر سننے پر شائع کیا گیا۔پھر بھی لاہوری پیغام کہتا ہے۔کہ انصار اللہ نے سازش کر رکھی تھی اور اس کا ثبوت کیا عمدہ دیا ہے کہ حافظ روشن علی صاحب نے حضرت کی علالت کی خبر احباب کو دی۔اس خوش فہمی اور حسن ظنی کی داد نہ دینا غلطی ہوگی۔انصار اللہ کی طرف سے ہر دوسرے روز حضرت کی علالت کی خبر اور صحت کی حالت کی اطلاع دی جاتی تھی۔جو کام تھا صدرانجمن کا جس نے اس پہلو سے فروگذاشت کی۔اگر حضرت کی علالت اور صحت کے حالات سے اطلاع دینا سازش ہو سکتا ہے۔تو بتایا جاسکتا ہے کہ حضرت خلیفہ اس نے جو اپنی صحت کا اعلان کر دیا تھا اور احباب کو آنے جانے سے روکا تھا۔اس کی کیا وجہ تھی؟ کس تحریر نے احباب کو قادیان بلایا تھا۔پھر ہم پوچھیں گے کہ اُسے کیا کہا جاوے؟ حافظ صاحب کا یہ لکھنا کہ جس سے بجائے دنوں کے اب عمر کا اندازہ گھنٹوں میں کیا جاتا ہے۔آئندہ کا یہی خوف ہے۔تو پیغام کے سلیم الفطرت وقائع نگار کے نزدیک سازش کا ثبوت ہوسکتا ہے۔مگر جب مولوی محمد علی صاحب ایک رسالہ لکھے اور حضرت کی زندگی میں اُن کی وصیت کے بعد لکھے اور لکھ کر اُسے لاہور میں رکھا جاوے اور مین وفات کے دن اُسے شائع کیا جاوے تو وہ سازش نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔خدا سے ڈرو اور تفرقہ کی بنیاد نہ رکھو۔(اخبار الفضل ۱۲۔مارچ غرض میں اس طرح کی قبولیت کے آثار مالی، جسمانی، روحانی برکات کی ترقی ہوتے دیکھ رہا تھا۔اور ارادہ تھا کہ ایک مہینہ قادیان رہوں کیونکہ یہ ایمان افزا باتیں تھیں کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالے نے فرمایا کہ دس بارہ دن آپ کو علاقہ سرگودھا سے آئے ہوئے ہو گئے ہیں اور سرگودہا میں لائل پوری شیخوں کا اثر بھی ہے اس لئے اب آپ وہاں جائیں اور کمزور اور مترو د طبیعیتوں کو دلائل اور دعاؤں سے سہارا دیں۔اور میری طرف خط لکھتے رہیں۔میں دوسرا جمعہ پڑھنے کی بعد چلا گیا۔وہاں جا کر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے تبلیغ کا اچھا موقعہ دیا۔منکران خلافت کی طرف سے جو اعتراض کئے جاتے تھے، اُن کے شافی جوابات اُن لوگوں کو دئے گئے۔یا یوں سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے اُن سے وہ اعتراض کرائے جن کے جواب کی تسلی بخش توفیق مجھے ملی۔الحمد للہ کہ علاقہ سرگودھا میں سوائے ایک گھر شیخوں کے سب نے بیعت کر لی۔میں نے جس رنگ میں وہاں تبلیغ کی اور سوال و جواب ہوئے اُس کی کچھ تفصیل میری مندرجہ