حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 321 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 321

حیات بقا پوری 321 کریم صلعم کے ماتحت نبی آسکتے ہیں۔ایسا ہی مسیح موعود کے بعد اور ماتحت خلفاء آسکتے ہیں۔نہ مخالفین سلسلہ کی طرح خاتم الخلفاء کے وہ معنے کئے جاویں جو وہ لوگ خاتم النبیین کے کرتے ہیں۔(۴) چوتھا شہر ان لوگوں کو یہ پڑا ہوا ہے کہ خلفاء اربعہ کی خلافت صرف انتظام ملکی کے لئے تھی۔مگر یہ شبہ بہت جلد زائل ہو جاتا ہے جب الفاظ حدیث پر غور کیا جائے۔مثلاً قال رسول الله صلعم خلافة النبوة ثلثون سنة ثم يؤتى الله الملك من يشاء ( رواه ابوداؤد ) ترجمہ: (رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا۔خلافت نبوت تمہیں سال ہوگی۔پھر خدا ملک جس کے چاہیگا سپر د کریگا۔اگر یہ بیعت صرف انتظام ملکی کے لیے ہوتی تو خلافت کے مقابل ملک کا لفظ کیوں آتا اور ۳۰ سال کی قید کیوں ہوتی حالانکہ بنو امیہ بھی ملکی بیعت لیتے رہے۔(۵) پانچواں شہر اس پر یہ وارد کرتے ہیں کہ لیست خلفنهم میں خلافت کا ذکر لام ونون تاکید سے کیا گیا ہے۔تو پھر کیا وجہ کہ میں برس ہی خلافت رہے۔مگر یا دور ہے کہ یہاں مدت کمال خلافت یعنی جلالی و جمالی کا ذکر ہے اس کے وجود کی نفی نہیں۔کیا عباد الرحمن الذین یمشون (آخری رکوع سورہ فرقان) والے مومنین کے سوا جس قدر مخلوق ہے وہ خدا کی نہیں بلکہ اور کسی کی ہے؟ (1) چھٹا شبہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ آیت استخلاف خلفاء مامورین کے لئے ہے نہ کہ خلفاء غیر مامور ین کے لئے ؟ میں اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اول کی اصل عبارت نقل کر دیتا ہوں: یا موروں کے خلفاء سب ایک حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔سورہ نور میں آیت خلافت کے بعد اللہ تعالیٰ منکران خلافت کو فاسق قرار دیتا ہے۔“ ( بدر ۲۹۔جولائی ۱۹۰۹ ء )۔یہ جواب اس بات کا ہے کہ اس وقت جناب کے ہاتھ پر بیعت کرنی کیوں ضروری ہے؟“ (2) ساتواں شبہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ الوصیت سے متعد شخص بیعت لینے والے ثابت ہوتے ہیں اور ہم نے خود زبانی حضرت مسیح موعود سے سنا تھا کہ اگر گاؤں گاؤں میں خلیفہ ہو جائے گا تو آپ کا کیا حرج ہے۔اس کا اول جواب تو یہی کافی ہے کہ رسالہ الوصیت کے سمجھنے والے ہم سب سے زیادہ خلیفہ اول تھے۔اور انہوں نے چھ سال خلافت کر کے بتلا دیا کہ رسالہ الوصیت کے یہ معنے ہیں۔اور پھر صدر انجمن نے بوقت خلافت اولی سب جماعت کی طرف خط لکھ کر بیعت کرنی ضروری بتلائی۔دوئم یہ عرض ہے کہ یہ زبانی بات حضرت نے فرمائی ہی نہیں ہوگی ورنہ تحریر میں اور عام اشاعت میں کیوں