حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 21 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 21

حیات بقا پوری 21 سُنے اور مجھے دیکھا تو رشتہ دینا منظور کر لیا۔لیکن ساتھ ہی تین شرطیں بھی پیش کر دیں کہ ان کا اپنا مکان ہو اور اپنی زمین ہو اور پہلی بیوی کی کوئی اولاد نہ ہو۔اور کہا کہ یہ تینوں چیزیں دیکھ کر میں رشتہ کا معاملہ پختہ کروں گا۔دوسرے دن مباحثہ شروع ہوا جس کا موضوع صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھا۔مناظرہ کے دوران میں مخالف مولوی نے کہا کہ مرزا صاحب نے جو یہ کہا ہے کہ نبیوں سے بھی اجتہادی غلطی ہونے کا امکان ہے اور اس کے ثبوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسر عن لحوقا بی اطولگن ید ا جو آپ نے اپنی مرض الموت میں فرمایا پیش کیا ہے یعنی حضور کی بیویوں کے اس سوال پر کہ حضور کے بعد سب سے پہلے کون سی بیوی وفات پائے گی؟ حضور کا یہ فرمانا کہ جو تم سب میں سے لمبے ہاتھوں والی ہے اور حضور کی ازواج مطہرات کا آپ کے سامنے سرکنڈا منگوا کر اپنے ہاتھ نا پنا اور حضرت سودہ بنت زمعہ کے ہاتھوں کا لمبا نکلنا اور آپ کے بعد سب سے پہلے دوسری بیوی حضرت زینب أم المساکین کا وفات پانا اور لمبے ہاتھوں سے سخاوت کرنے والی بیوی مراد تھا۔اس مخالف مولوی نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ بیویوں نے حضور کے رو بروسرکنڈا منگوا کر ہاتھ نا پے لیکن حضور نے منع نہیں فرمایا۔حالانکہ ہاتھ آپ کے سامنے نہیں ناپے گئے بلکہ بعد میں کسی وقت تا پے گئے۔مرزا صاحب نے کیسے لکھ دیا اور کس لفظ سے استدلال کیا کہ بیویوں نے آپ کے سامنے اپنے ہاتھ نا پے تھے۔حدیث میں اس کی صراحت موجود نہیں۔اس پر حافظ غلام رسول صاحب جو ہماری طرف سے مناظر تھے مجھے فرمانے لگے کہ اس کا کیا جواب ہے تو میں نے مخالف مولوی صاحب کو بلند آواز ہے کہا کہ آپ حدیث پڑھیں۔میرے اصرار پر ایک دوسرے مولوی نے حدیث پڑھی۔میں نے کہا کہ حدیث میں جو بینگن کے الفاظ ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھ نا پنے کافضل حضور کے سامنے حضور کی ازواج مطہرات نے سرانجام دیا کیونکہف کا عمل عربی میں تاکید اور فوری طور پر عمل کرنے کے لیے آتا ہے۔اگر ہاتھ حضور کے سامنے نہ ناپے جاتے اور بعد میں یہ کام ہوتا تو ھم بھگن کے الفاظ ہوتے۔جب میں نے اپنی اس دلیل کو شرح وبسط سے بیان کیا اور صرفی نحوی قواعد کے ماتحت اس کا ثبوت دیا تو مخالف مولوی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور احمدیت کی نمایاں فتح ہوئی اور سب احمدی بہت خوش ہوئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔دوسرے دن حافظ صاحب نے جو رشتہ کے متعلق حتمی جواب حاصل کرنا چاہا تو چوہدری غلام حسین صاحب والد ماجد مولوی محمد یار صاحب عارف مولوی فاضل سابق مبلغ انگلستان نے کہا کہ قریشی صاحب آپ کے گاؤں میں جا کر جب تک ان تین باتوں کا علم حاصل نہ کرلیں جو انہوں نے پیش کی تھیں پختہ جواب نہیں دیا جا سکتا۔