حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 20 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 20

حیات بقاپوری 20 20 نکاح ثانی:۔اپنی بیوی کی وفات کے کچھ دن بعد جب میں قادیان میں جلسہ سالانہ پر حاضر ہوا تو حضرت خلیفہ اسح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں اپنی بیوی کے مرنے کا ذکر کیا اور دوسرے نکاح کے لیے دعا کی درخواست بھی کی۔حضرت خلیفہ اسی اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت شفقت اور پیار سے فرمایا کہ میں ضرور دعا کروں گا۔رشتے بہت ہیں جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا معاملہ طے ہو جائے گا۔جب حضرت خلیفتہ اسی اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مکان میں تشریف لے گئے تو میں نے سجدہ میں گر کر دعا کی کہ اے خدا تو میرے لیے اپنے خلیفہ کے دل میں قلق اور اضطراب ڈال تا کہ وہ میرے نکاح کے لیے توجہ سے دعا کریں۔جلسہ سالانہ کے بعد جب میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ حضرت خلیفہ اسی اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تا کہ واپس ہونے کی اجازت حاصل کروں تو آپ نے سب کے لیے مشترکہ دعا کی اور مجھے فرمایا کہ میں نے آپ کے نکاح کے متعلق دعا کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتلایا ہے کہ دعا قبول کر لی گئی ہے پس آپ جائیں۔اس کے بعد ۲۳۔اپریل 1909ء کو میں نے رویاء میں دیکھا کہ ایک شخص بارہ تیرہ سال کی ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر مجھے کہتا ہے کہ یہ تمہیں دی گئی ہے۔اس وقت مجھے حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ تعالی عنہ کا میرے حق میں دعا کرنا یاد آیا اور میں نے اس کا ذکر چانور علی صاحب مرحوم سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس شکل و شباہت والی اتنی عمر کی لڑکی چک نمبر ۹۸ شمالی سرگودہا میں ہے۔میں دوسرے دن وزیر آباد اپنے خال حافظ غلام رسول صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور اُن سے حضرت خلیفہ اسح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعا اور اپنی رویاء کا ذکر کیا۔وہاں سے ہم دوسرے دن چک نمبر ۹۸ شمالی سرگودہا جا پہنچے اللہ تعالے کی حکمت وہاں پہنچتے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ وہاں کے احمدیوں کو کسی غیر احمدی مولوی سے بحث مباحثہ کے لیے ایک احمدی عالم کی سخت ضرورت تھی۔حافظ صاحب کے اچانک پہنچ جانے پر جماعت کے لوگوں کو بہت مسرت حاصل ہوئی اور انہوں نے تائید غیبی اور نعمت غیر مترقبہ سمجھا۔حافظ صاحب نے فرمایا کہ ہم بحث بھی ضرور کریں گے لیکن جس مقصد کے لیے ہم یہاں آئے ہیں آپ لوگ اس کے پورا کرنے کے لیے بھی ہماری مدد فرمائیں۔جب ان لوگوں کو تمام امور کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے امام الصلوۃ میاں غلام حسین صاحب قریشی کے ہاں میرے رشتہ کی تحریک کی۔جب قریشی صاحب نے میرے حالات