حیاتِ بقاپوری — Page 22
حیات بقاپوری 22 گاؤں میں جا کر جب تک ان تین باتوں کا علم حاصل نہ کر لیں جو انہوں نے پیش کی تھیں پختہ جواب نہیں دیا جاسکتا۔لیکن اللہ تعالے کی حکمت کہ قریشی صاحب پر مباحثہ کے دوران میں میری تقریر اور میری پیش کردہ دلیل کا اس قدر اثر ہوا کہ انہوں نے اپنی پیش کردہ شرائط کو نظر انداز کر کے رشتہ دینا منظور کر لیا۔چنانچہ رشتہ طے پا گیا اور میں چک نمبر ۹۸ و چک نمبر ۹۹ میں پندرہ میں روز ٹھہرا۔میرے وہاں ٹھہرنے کا احمدیوں پر یہ اثر ہوا کہ انہوں نے اصرار کیا کہ آپ کم از کم دو سال ہمارے پاس ٹھہریں۔آپ کی شادی اور رخصتانہ بھی جلد از جلد کرانے کا انتظام کر دیا جائے گا۔اس کے بعد مجھے ۱۹۰۹ء سے ۱۹۱۴ء تک وہاں ٹھہرنے کا موقعہ ملا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ احمدیت کی بھی خوب توفیق علی اور میری تبلیغ سے کئی جگہ جماعتیں قائم ہو گئیں۔الحمد للہ علی ذالک۔قادیان کی رہائش اور مختلف مقامات پر قیام مارچ ۱۹۱۴ء کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجھے چک نمبر ۹۹ سے واپس آجانے کا ارشاد فرمایا یہ حکم پہنچتے ہی میں قادیان آگیا۔بیعت کرنے کے بعد میں تین ماہ اپنے تہیال مرالی والا ٹھہرا رہا اور پھر اپریل 1909 ء تک بقاپور میں قیام رہا۔اس کے بعد 191ء تک چک نمبر ۹۹۹۹۸ شمالی سرگودھا میں۔جنوری ۱۹ء سے ۱۹۳۸ء تک صدر انجمن احمدیہ کی نظارت تبلیغ کے ماتحت تبلیغی خدمات سرانجام دیتارہا اور حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت راولپنڈی، امرتسر اور آخر قادیان میں اقامت گزین ہو گیا۔اور اس دوران میں بنگال میں بھی تبلیغی سفر در پیش آیا۔اور ۱۹۲۳ء سے ۱۹۲۸ء تک چھ سال کا لمبا عرصہ سندھ کے علاقہ میں گذارا جہاں پر حضور نے مجھے بعہدہ امیر التبلیغ سندھ بھجوایا اور بیعت لینے کی بھی اجازت بخشی۔فالحمد للہ علی ذالک۔۱۹۲ء کے بعد مجھے مہمانخانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں مہمانوں کے لیے بطور واعظ مقامی مقرر کیا گیا اور اس کے بعد متفرق کلاس میں دو سال بطور معلم اول خدمات سرانجام دیتا رہا۔۱۹۳۸ء میں ٹیشن پر ریٹائر ہو گیا۔اور اب انقلاب کے بعدر بوہ میں مقیم ہوں اور حضور کے ارشاد کے ماتحت جو خدمت ہو سکتی ہے سرانجام دیتار بتا ہوں۔رَبَّنَا تَقَبْلُ مِنَا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمِ (۱۳۸:۲)