حیاتِ بقاپوری — Page 162
حیات بقاپوری 162 آدمی مجھے کہتا ہے محمد اسحاق کو ڈاکٹری میں نہ ڈالو۔اس سے اور تشویش بڑھی اور ارادہ کیا کہ اگر فیس داخل نہ کی گئی ہو تو اُسے میڈیکل سکول سے اٹھا کر کسی دوسرے سکول میں داخل کرایا جائے۔اس تشویش میں ۱۲ نومبر کی تاریخ بھی گزر گئی۔جب رات کو عشاء کے بعد میں اسی خیال میں چار پائی پر لیٹا تو مجھے آواز آئی: اس کا مطلب یہ نہیں یعنی مبار کہ بیگم کی خواب کی وہ تعبیر جو آپ سمجھتے ہیں صحیح نہیں۔میں نے اسی رات بوقت تہجد نماز میں سات بار استخارہ کیا کہ الہی اگر ڈاکٹری اس کے لیے مفید اور بابرکت ہے تو آسانی پیدا کر دے اور ساتھ ہی یہ دعا کی کہ اپنی تقدیر بدل دے۔پس جب ۱۳ ۱۴ نومبر کی درمیانی رات آئی تو میں نے تین بار یہ مبشر خواب دیکھے۔(۱) اول ایک صف میں کچھ لڑکے بیٹھے ہیں کوئی کہتا ہے محمد الحق پاس ہونے والوں میں ہے اس پر وہ ان میں آکر بیٹھ گیا۔(۲) بعد غنودگی پھر دوسری بار دیکھا ایک جگہ مولوی شیر علی صاحب کھڑے ہیں۔میں نے محمد اسحق کو بھی لا کر اُن کے پاس کھڑا کر دیا ہے اور کوئی کہتا ہے محمد اسحق پاس ہے۔(۳) تیسری بار پھر غنودگی کے بعد دیکھا کہ کوئی مجھے بگو گوشہ دیکر کہتا ہے کہ یہ کشمیر کے پھلوں میں سے سب سے اعلیٰ پھل ہے اور کوئی کہتا ہے محمد اسحق پاس ہے۔یا رویاء میں میرے دل میں گزرا کہ محمد الحق پاس ہے۔چنانچہ صبح کو میں نے اپنے تینوں خواب محمد الحق اور اسکی والدہ کو سنا دئے کہ محمد الحق انشاء اللہ تعالیٰ ۱۹۳۱ء اور ۱۹۴۳ء کے امتحانوں میں پاس ہی ہوتا جائے گا۔چنانچہ بعد میں ایسا ہی ظہور میں آیا۔الحمد للہ تعالٰی۔۲۵ ۳۰ نومبر ۱۹۴۰ء کو خواب میں دیکھا کہ سرکار کی طرف سے ہمارے احمدیوں کی تلاشیاں کروائی جارہی ہیں۔اچانک سپاہیوں نے دروازے بند کر لیے۔مگر مجھے اطمینان ہے کہ کوئی ایسا کاغذ نہیں جو مشتبہ ہو۔سپاہیوں میں سے ایک سکھ سپاہی وردی کے بغیر ہے اور صرف خاکی کرتہ پہنے کھڑا ہے، حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ سے گستاخانہ گفتگو کر رہا ہے اور حضور اقدس خاموش ہیں۔میں اسے کہتا ہوں گورو اور خدارسیدہ خواہ کسی مذہب کے ہوں ان کی شان میں گستاخی سے عذاب الہی آتا ہے اور ان کی بے ادبی کرنا اچھا نہیں۔اس پر وہ نادم سا ہو کر خاموش ہو گیا۔لیکن حضرت اقدس کو کوئی گھبراہٹ نہیں۔یہ رویا اگست ۱۹۴۱ء میں قریباً نو ماہ بعد واقعہ ڈلہوزی سے پوری ہوئی جب پولیس نے محض شرارت اور ایذارسانی کی خاطر حضرت اقدس کی کوٹھی کی تلاشی لینی چاہی جس کا تذکرہ اخبار الفضل میں موجود ہے۔اس رویاء کی نقل بھی حضرت اقدس کی خدمت میں قبل از وقت پہنچائی گئی۔