حیاتِ بقاپوری — Page 159
حیات بقاپوری 159 کچھ نہیں۔شجرة فيه تسیمون چنانچہ حضرت میاں صاحب کو اطلاع دی گئی اور تھوڑے عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمام تکالیف کو دور کر دیا۔احمد ۱۵ نومبر ۱۹۳۷ء میں شیخ نیاز محمد صاحب سب انسپکٹر پولیس پر جبکہ وہ میر پور خاص سندھ میں ملازم تھے سرکار کی طرف سے ان پر مقدمہ چلایا گیا جسمیں وہ معطل ہو گئے اور مقدمہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔تو انہوں نے مجھے موقعہ پر ہی اپنے پاس دعا کے لیے بلا لیا۔انہی دنوں میں مرزا سعید احمد صاحب مرحوم ابن صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کی خطرناک بیماری کے متعلق بھی لندن سے تاریں آنی شروع ہوئیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بھی مجھے دعا کی تحریک فرمائی۔۴۲۳۔دسمبر ۱۹۳۷ء کی درمیانی رات مطابق ۲۹۔رمضان شریف بوقت ۴:۳۰ بجے دیکھا کہ ایک مرنے اور دنے کو بلا گلے سے کاٹ کر مار گیا ہے۔میں ذبح کرنے کے لیے کہتا ہوں تو مرنے کی آواز دور سے سنی اور معلوم ہوا کہ بالکل صحیح و سالم ہے مگر دنبہ منہ کے بل مُردہ پڑا ہے۔یوں معلوم ہوا کہ مرنے سے مراد شیخ نیاز محمد صاحب اور دنبہ سے مراد مرزا سعید احمد صاحب ہیں۔چنانچہ ۱۲ ۱۳۔جنوری ۱۹۳۸ء کی درمیانی رات مرزا سعید احمد صاحب لندن میں وفات پاگئے۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون ۱۶ ۱۵ جولائی ۱۹۳۹ء کو میں نے اپنے بیٹے محمد اسمعیل کی بابرکت ملازمت کے لیے اور شیخ نیاز محمد صاحب کی رہائی کے لیے اور حافظ مبارک احمد صاحب کے ہاں اولاد نرینہ کے لیے دعائیں کیں تو مجھے الہام ہوا إِنه عَلى۔الحمد لله رب العلمين۔ذو فضل میں نے سمجھ لیا تینوں کے لیے دعا قبول ہوگئی۔چنانچہ تینوں کو اطلاع دی گئی۔بعد میں میرا بیٹا بھی اچھی ملازمت پر لگ گیا اور حافظ مبارک احمد صاحب کے گھر ۶ نومبر ۱۹۴۱ء کولڑکا پیدا ہوا اور شیخ نیاز محمد صاحب مخلصی پا گئے۔الحمد للہ ۱۷ ۲۱۔جولائی ۱۹۳۹ء جمعرات بعد نماز تہجد دیکھا کہ مکرم شیخ نیاز محمد صاحب موٹر پر سوار ہو کر ایک حاکم کے گھر آئے ہیں اور خوش معلوم ہوتے ہیں۔میں کہتا ہوں یہ آنا آخری ہے کیونکہ اب فیصلہ شیخ صاحب کے حق میں ہو جائے