حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 158 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 158

حیات بقاپوری ا۔158 ۱۶ جنوری ۱۹۳۸ء بعد نماز تہجد دیکھا میرے دونوں لڑکے محمد اسمعیل و محمد اسحاق سلمہا اللہ تعالیٰ ٹائیفائڈ سے بیمار ہیں۔میں محمد اسحاق کی نبض دیکھتا ہوں۔رو کر کہتا ہوں یہ مرنے لگا ہے۔دونوں ڈبلے ہو گئے ہیں اور ہاتھ پیر دونوں کے سرد ہیں۔یہ خواب اس طرح پوری ہوئی کہ محمد اسحاق ۱۹۳۹ء کے امتحان میں فیل ہو گیا اورمحمد اسمعیل ۱۹۴۰ء کے امتحان میں فیل ہو گیا۔ال ۱۶ مئی ۱۹۳۸ء کو دیکھا کہ محمد اسحاق کہتا ہے میں اول نمبر رہا ہوں۔جب اس نے یہ کہا تو میں نے ایک کاغذ پر بشکل 'بیسٹ لکھا ہوا دیکھا۔خاکسار چونکہ انگریزی نہیں جانتا صبح دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ لفظ انگریزی میں Best ہے جس کے معنے بہترین' کے ہیں۔الحمد للہ کہ اس کے بعد میٹریکولیشن کے امتحان میں وہ فسٹ ڈویژن حاصل کر کے ۶۱۷ نمبروں پر کامیاب ہوا اور سکول میں تیسرے نمبر پر آیا۔۱۲ شب عید الفطر (۲۴ نومبر ۱۹۳۸ء) آواز آئی: لا يُكَلِّفُ اللَّهَ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اس وقت میں نے بچوں کے تعلیمی اخراجات اور گھر کی ضروریات کے متعلق دعا کی تھی۔تفہیم ہوئی کہ تمہارے اخراجات کے مطابق آمد رہے گی۔چنانچہ بے فکری سے تمام اخراجات پورے ہوتے رہے جو سات ہزار روپے کے قریب تھے اور ۱۹۴۳ء میں دونوں لڑکوں کو اچھی ملازمت مل گئی۔الحمد للہ۔۱۳ یکم فروری ۱۹۳۹ ء عید الاضح کی رات کو دیکھا کہ بہت سے سیب، انار اور امرود مجھے دئے گئے۔اس سے مجھے معلوم ہوا کہ میرے تینوں لڑکوں سے اولا ونرینہ انشاء اللہ تعالیٰ بہت ہوگی۔چنانچہ جن دو کی شادیاں ہو چکی ہیں ان میں سے ایک کے دولڑ کیاں تین لڑکے اور دوسرے کے تین لڑکے ہیں۔الحمد للہ ۱۴ ۱۹ ۲۰ فروری ۱۹۳۹ ء میں مجھے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے بعض تکالیف کا اظہار فرما کر دعا کے لیے ارشاد فرمایا۔میں نے دعا شروع کی تو ۲۴۔فروری ۱۹۳۹ء کو یہ آواز آئی: