حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 133 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 133

حیات بقاپوری 133 (پیغام صلح ۲۱ - ستمبر ۱۹۳۹ء ص ۵) مولوی صاحب نے اس سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے: (1) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا کام عیسائیت کے خلاف اتمام حجت میرے سپرد کیا لہذا میں ان کی جماعت کا صحیح راہ نما ہوں۔(۲) حضرت مولوی نورالدین صاحب نے میاں صاحب (حضرت خلیفہ اسیح الثانی مرتب) کے منہ پر فرمایا، کہ کفر و اسلام کا مسئلہ انہوں نے نہیں سمجھا۔اور مجھے فرمایا، کہ مسلہ کفر و اسلام پر مضمون لکھو۔یعنی کفر و اسلام کے متعلق جو میرا عقیدہ ہے درست ہے نہ کہ وہ جو میاں صاحب کہتے ہیں۔(۳) دنیا میرے عقیدے کا ، کہ مرزا صاحب مجدد ہیں، اعتراف کرتی ہے۔نہ کہ میاں صاحب کے عقیدے کا، کہ مرزا صاحب نبی تھے۔اور آپ کہتے ہیں، کہ اسلامی دنیا کے سرکردہ آدمیوں سے پوچھو کہ مسیح موعود نبی تھے یا مجدد۔میں بھی بحث سے بچنا چاہتا ہوں۔صرف میں مولوی صاحب کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ جو نتیجہ آپ ان تین باتوں سے نکالنا چاہتے ہیں ، وہ اس لئے نہیں نکلتا، کہ جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور آپ کے بعد انجمن نے یہ خدمت آپ کے سپرد کی۔اس وقت آپ کے اور خواجہ کمال الدین صاحب کے عقیدے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرح تھے۔یعنی یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی اللہ ہیں۔اور ان کا منکر منکر نبی اللہ ہے۔پس زیادہ سے زیادہ آپ کی بات مان کر جو نتیجہ نکلتا ہے۔وہ یہ ہے کہ جب تک آپ کے عقاید صحیح رہے ، جیسا کہ ریویو آف ریلیجنز کے مضامین سے پتہ چلتا ہے جو آپ کی ایڈیٹری میں شائع ہوتا رہا ہے، اس میں آپ نے ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اللہ لکھ کر پیش کیا ہے (دیکھو مضامین رسالہ ریویو آف ریلیجنز جلد ۶ وغیرہ)، تب تک آپ حضرت اقدس کی جماعت کے صحیح کارکن رہے۔مگر جب آپ نے اپنے عقائد بدل لئے۔تو آپ مخالف ہو گئے۔میں یہ مانتا ہوں کہ آپ کی تبدیلی عقائد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق حضور کی زندگی میں ہی شروع ہو گئی تھی۔جب کہ آپ اور خواجہ کمال الدین صاحب نے مولوی انشاء اللہ ایڈیٹر اخبار وطن کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ ہم رسالہ ریویو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے الہامات کا ذکر نہیں کریں گے۔صرف صداقت اسلام پر ہی دلائل دیئے جائیں گے۔اور وہ غیر احمدیوں میں اس رسالہ کی اشاعت کثرت سے کرا دے گا۔