حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 134 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 134

حیات بقا پوری 134 لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کا پتہ چلا تو حضور نے خواجہ صاحب اور آپ کو فرمایا کہ: میں ہوں۔“ ر مجھے چھپا کر وہ کونسا اسلام تم لوگوں کے سامنے پیش کرو گے؟ اسلام کی صداقت کا زندہ ثبوت تو اس پر آپ لوگ اس ارادہ سے باز آئے۔اور مولوی انشاء اللہ کو اس کے مرسلہ روپے واپس کئے۔لیکن آپ اور خواجہ صاحب جماعت میں بظاہر نبوت کے قائل ہی رہے۔اور احمدی احباب کو خطوط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی اللہ اور رسول اللہ لکھتے رہے۔اور صریح طور پر حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کیا ہے۔اس کے ثبوت میں خاکسار آپ کی ایک چٹھی بجنسہ نقل کرتا ہے۔جو آپ نے چوہدری رستم علی خاں صاحب مرحوم و مغفور کو لکھی تھی: مکرمی چوہدری صاحب السلام علیکم ورحمته الله وبرکاته اگر چہ بہت کم فرصتی ہے۔مگر تا ہم وہ بات آپ کو سناتا ہوں۔جو پرسوں ہمارے امام نے سنائی۔کہ جماعت اب اس وقت کے لئے تیار رہے جو آخر ہر نبی پر آتا ہے۔یعنی رحلت کا وقت۔اللہ تعالیٰ کے الہامات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت اب قریب ہے۔اگر چہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ قریب سے اس کی کیا مراد ہے۔اس کے نزدیک بعض وقت تھوڑا وقت بھی ایک بڑا عرصہ ہوتا ہے۔اور ہماری تو یہی دعا ہے کہ اگر وہ ایک دن بھی ہے تو ان يوما عند ربك كالف سنة ہو۔مگر آخر اس وقت سے تو چارہ نہیں۔یہ الہامات گویا عید کے دن کے ہیں۔قرب اجلک المقدر قل میعاد ربک دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔اس روز سب پر اداسی چھا جائے گی۔لا نبقى لك من المخزيات ذكرًا۔یہ آخری الہام تسلی بھی دیتا ہے۔کہ مقاصد پورے کئے جائیں گے۔مگر فرمایا کہ مقاصد کی تکمیل نبی کے اٹھائے جانے کے بعد بھی ہوتی رہتی ہے۔یہ تو خدا بہتر جانتا ہے۔کہ اب کتنا وقت اور ہمارے ہاں یہ خدا کا پیارا ہے۔اور ابھی ہم میں سے کس کس پر اس نے آخری دعا کرنی ہے۔مگر جماعت کیلئے وہ وقت ضرور آگیا ہے۔کہ اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرے۔کیونکہ خدا اس حالت میں تو اس کو نہیں چھوڑے گا۔مگر ہم میں سے بڑا بد قسمت کون ہوگا۔اگر ہم ان لوگوں میں نہ ہوئے۔جن کو اللہ تعالیٰ اپنے خاص ارادہ اور منشاء سے ایک بڑے کام کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ سب بھائیوں کو توفیق دے کہ اب اس دنیا سے دل توڑ کر آخرت پر ہی لگا دیں۔و اسلام ! ( خاکسار محمد علی)