حیاتِ بقاپوری — Page 132
حیات بقاپوری 132 خلافت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ:- حضرت اقدس نے حمامتہ البشری میں تحریر فرمایا ہے۔ثم يسافر المسيح الموعود او خليفة من خلفائه الى ارض دمشق یعنی کہ مسیح موعود یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ سرزمین دمشق کی طرف سفر کریگا۔اس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلفاء کا سلسلہ قائم ہوگا۔۷۸ کیا مولوی محمد علی صاحب رجل منصور ہیں؟ یہ مضمون حضرت مولا نا بقا پوری صاحب کا ہے جو الفضل میں شائع شدہ ہے۔مرتب) مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے اپنے خطبہ ۲۔ستمبر ۱۹۴۹ء میں یہ الفاظ کہے ہیں: در مسیح موعود فرماتے ہیں کہ: مجھے یہ غم اور پریشانی کھائے جارہی ہے۔کہ میں جس مقصد کو لے کر آیا ہوں۔ابھی تک اس ملک کے تعلیم یافتہ لوگ اور یورپ کے رہنے والے اس سے محروم ہیں۔میں کس طرح ان چیزوں کو ان تک پہنچاؤں۔سو میں نے دوستوں کے مشورہ سے اس تجویز کو پسند کیا۔کہ ہم انگریزی میں ایک رسالہ جاری کریں اور اس کے ایڈیٹر مولوی محمد علی صاحب اور خواہ کمال الدین صاحب ہوں گے۔اور ہر دو نے اس کا ایڈیٹر ہونا منظور کر لیا ہے۔تو آپ نے اس کام کو اپنی وفات کے بعد تک ملتوی نہیں کیا کہ آپ کی فوج کا سرکردہ کون ہے؟ وہ کام آپ نے اپنے ہاتھوں سے میرے اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے سپرد کیا۔اور جب آپ کی وفات کے بعد قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کے کام کو ضروری سمجھا گیا تو وہ بھی ساری جماعت نے ، آپ کی جانشین انجمن نے میرے سپرد کیا۔۔۔میاں صاحب کی موجودگی میں اور ان کے منہ پر حضرت مولانا نورالدین صاحب نے یہ لفظ کہے کہ مسئلہ کفر و اسلام بہت مشکل ہے۔بہت لوگوں نے اسے نہیں سمجھا۔میاں صاحب نے بھی نہیں سمجھا۔آج اگر کسی چیز کا دنیا میں اعتراف ہے، تو اس چیز کا نہیں جو میاں صاحب کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نبی تھے۔بلکہ اس کا اعتراف ہے کہ آپ مجدد تھے۔حضرت مسیح موعود نبی تھے یا مجدد؟ اسلامی دنیا کے سرکردہ آدمیوں سے اس کا جواب پوچھو۔“