حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 119 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 119

حیات بقاپوری 119 (تذکره صفحه ۶۹۰) (۲) آپ کو نذیر فرماتے ہوئے فرمایا۔دنیا میں ایک نذیر (نبی) آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خُدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔( تذکره صفحه ۱۰۵) (۳) بکثرت امور غیبیہ کے اظہار کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: غرض اس حصہ کثیر وحی الہی و امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں۔اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں گذر چکے ہیں۔اُن کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام (نبی) کے مستحق نہیں۔کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ مخاطبہ کیا ہے اور جس قدرا مور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس (ہجری) میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔اگر کوئی منکر ہوتو بار ثبوت اُس کی گردن پر ہے۔“ (حقیقة الوحی صفحه ۳۹۱) پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام از روئے تعریف قرآن وحدیث واقوال فضلائے اُمت نبی اللہ ہیں۔کیا لانبی بعدی میں لا نفی جنس کا ہے؟ حديث لانبی بعدی میں حرف لا کس نبوت کی نفی کرتا ہے؟ واضح ہو کہ یہ لا اس طرح کا نہیں کہ جس کو اصطلاح نحو میں لا نفی جنس کہہ کر ہر ایک طرح کی نفی کرنے والا سمجھا جاتا ہے کہ جس سے ایک فرد بھی باہر رہنا منع سمجھا جائے۔کیونکہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ مبشرات جو ایک قسم کی نبوت ہے وہ باقی ہے۔نیز تمام علماء امت کا اس پر اجماع ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام نبی اللہ ہوں گے۔جب مزعومہ جنس نبوت کی نفی ہو گئی تو ایسی نفی میں تمام قسم کے نبی خواہ مجازی ہوں یا حقیقی، خلی ہوں یا بروزی، اصلی ہوں یا نقلی ، ناقص ہوں یا کامل سب کی نفی اس حرف لانے کر دی۔اور یہ امت مرحومہ بجائے افضل الامم ہونے کے انقص الامم ٹھہری۔پھر صرف یہی خرابی نہیں بلکہ بہت سا حصہ احکام قرآنیہ حدیثیہ کا اس طرح کا لا ماننے سے چھوڑنا پڑیگا۔مثلاً حدیث جس میں آیا ہے کہ لا صلوة لمن لم يقرء بفاتحة الكتاب یعنی کسی کی نماز بغیر احمد کے نہیں ہوتی۔اور لاصلوۃ لجار المسجد الا في المسجد یعنی ہمسایہ مسجد کی نماز بغیر مسجد کے نہیں ہوتی۔یہاں بھی آپ کا وہی لا، لا نبی بعدی والا