حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 118 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 118

حیات بقاپوری امور غیبیہ اس غرض سے ظاہر ہوں کہ اُس کو نذیر بنا کر بھیجا جاوے۔نبوت کی تعریف فتوحات مکیہ میں :۔118 اور فتوحات مکیہ میں نبوت کی تعریف یوں لکھی ہے: ان النبوة خطاب الله تعالى او كلام الله تعالى لمن شاء من عباده في هاتين الحالتين في يقظة اومنام و هذا لخطاب الالهي المسمى بنبوة على ثلاثة انواع نوع يسمّى وحيًا و نوع يسمع كلامه من وراء حجاب و نوع بوساطة رسول فیوحی ذالک الرسول من ملک و لیست النبوة بامر زائد على الاخبار الالهى بهذه الاقسام یعنی نبوت صرف اس درجہ کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی اپنے بندہ سے مکالمہ مخاطبہ کرتے ہوئے اُسے نبی کے لفظ سے پکارے۔خواہ یہ خطاب اس کو بیداری میں ہو یا حالت نوم میں۔اور یہ انہی خطاب جو نبوت کے نام سے موسوم ہے تین طرح ہوتا ہے۔اول بذریعہ وحی۔دوم پس پردہ کلام۔سوم فرشتہ کی وساطت سے۔پس جو خبریں ان تینوں ذرائع سے حاصل ہوں ، وہی نبوت ہے۔نبوت کوئی الگ چیز نہیں۔انتھی۔نبوت کی تعریف مجد دالف ثانی کے نزدیک :۔امام ربانی اپنے مکتوب میں یوں فرماتے ہیں۔اگر چہ اس اُمت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں۔اور قیامت تک رہیں گے۔لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جاوے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاویں وہ نبی کہلاتا ہے۔(حقیقته الوحی صفحه ۳۹۰) تینوں تعریفوں کا ماحصل :- اب ما حصل ان تینوں حوالوں کا یہ ہوا کہ نبی اُس شخص کو کہتے ہیں۔اوّل جس کو خدا تعالیٰ نبی کے نام سے موسوم کرے۔دوم وہ لوگوں کے لئے نذیر بھی ہو۔سوم کثرت سے اُس پر امور غیبیہ کا اظہار بھی ہو۔یہ تعریف مسیح موعود پر صادق آتی ہے:۔اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا یہ تینوں باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں پائی جاتی ہیں ؟ آپکے الہامات کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ: (1) اللہ تعالیٰ نے آپکو الہام میں نبی کا خطاب دے کر فرمایا یا ايها النبي اطعموا الجائع والمعتر۔